• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

سوتیلی بیٹی سے نکاح کا حکم

استفتاء

ایک شخص نے ایسی عورت سے نکاح کیا جس کی پہلے خاوند سے ایک بیٹی ہے۔ اگر بیوی کی وفات ہو جائے تو اس کے بعد اس شخص کا اپنی سوتیلی بیٹی سے نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں! جزاک اللہ خیرا

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرنے کے بعد ازدواجی تعلق بھی قائم کر چکا ہو تو اب اس عورت کی بیٹی (جو اس کے سابقہ شوہر سے ہو) اس شخص پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو جائے گی۔ اس عورت کی وفات کے بعد اس لڑکی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہو گا۔ ہاں! اگر محض نکاح ہوا اور ہمبستری نہیں ہوئی تھی کہ منکوحہ فوت ہو گئی تو اب اس کی بیٹی سے نکاح جائز ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ ﴾(سورۃ النساء: 23)
ترجمہ: تمہاری سوتیلی بیٹیاں جو تمہاری ان بیویوں سے پیدا ہوئی ہوں جن کے ساتھ تم نے خلوت کی ہے (تو یہ بھی تم پر حرام ہیں) ہاں! اگرتم نے ان کے ساتھ خلوت نہیں کی (اور انہیں طلاق دے دی یا ان کی وفات ہو گئی تو اب ان لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرنے کی صورت میں) تم پر کوئی گناہ نہیں!علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی الحنفی(ت1088ھ) لکھتے ہیں:
لِمَا تَقَرَّرَ أَنَّ وَطْءَ الْأُمَّهَاتِ يُحَرِّمُ الْبَنَاتِ وَنِكَاحَ الْبَنَاتِ يُحَرِّمُ الْأُمَّهَاتِ.(الدر المختار مع رد المحتار: ج 3 ص 31 کتاب النکاح، فصل فی المحرمات)
ترجمہ: یہ بات طے شدہ ہے کہ ماں سے ہمبستری کرنے سے اس کی بیٹی حرام ہو جاتی ہے جبکہ بیٹی کے ساتھ محض نکاح کرنے سے اس کی ماں حرام ہو جاتی ہے۔نوٹ: عورت سے نکاح کر کے جب تک اس سے ہمبستری نہ کی ہو یا شہوت سے اسے چھوا نہ ہو اس وقت تک اس کی بیٹی حرام نہیں ہوتی۔ اس مسئلہ میں خلوتِ صحیحہ؛ جماع کے قائم مقام نہیں ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved