- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
1: میں نے اپنے سر کے اوپر والے حصہ کی سرجری کروائی ہے۔ ڈاکٹر نے ہاتھ اور پانی لگانے سے منع کیا ہے۔ نیز میرے سر کے پچھلے حصہ میں بھی بہت زیادہ زخم ہیں جن پر میں ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ ہاں البتہ سر کے دائیں اور بائیں جانب کانوں کے اردگر والے حصے پر ہاتھ لگا سکتا ہوں۔ اب وضو میں مسح کرنے کے لیے اگر میں سر کے دائیں بائیں جانب مسح کر لوں تو کیا یہ مسح صحیح شمار ہو گا؟2: اگر کسی شخص کے مکمل سر پر ایسے زخم ہوں کہ مسح کرنا ممکن نہ ہو تو اس صورت میں اس شخص کے لیے مسح کا کیا حکم ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1: فرضیتِ مسح کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ سر کے چوتھائی حصہ کا مسح کیا جائے۔ دونوں ہاتھوں کی چاروں انگلیاں ملائی جائیں تو یہ چوتھائی سر کے برابر ہوتی ہیں۔ اس لیے ہاتھ تر کر کے سر کی اتنی مقدار پر پھیر دیا جائے تو فرض ادا ہو جاتا ہے۔ لہذا آپ اس مجبوری کی حالت میں کانوں کے اطراف اور بالائی حصہ کی اتنی جگہ پر ہاتھ تَر کرکے پھیر دیں جو دونوں ہاتھوں کی چار انگلیوں کے برابر ہو تو فرض ادا ہو جائے گا۔2: اگر مکمل سر پر زخم ہیں اور مسح کرنا ممکن نہیں تو مسح معاف ہے۔ ایسا شخص اپنے باقی اعضاء دھو کر نماز وغیرہ ادا کر سکتا ہے۔ واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved