• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

سفرِ معراج میں جزاء وسزا کی مثالی صورت

استفتاء

شب ِ معراج کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جہنم کے عذاب میں مبتلا دیکھا اور جنتیوں کو جنت میں دیکھا حالانکہ لوگ جنت اور دوزخ میں تو میدانِ حشر کے بعد جائیں گے، پھر پہلے وہ لوگ وہاں کیسے تھے؟ دوسرے الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج پر آسمانوں کی سیر کے دوران جنت و دوزخ دکھائی گئی، وہاں بتایا گیا کہ دوزخ کے کس مجرم کو کیوں اور کون سی سزا دی جا رہی ہے۔ تو ابھی حساب اور حشر برپا نہیں ہوئی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت دوزخ کے مکین دیکھتے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اللہ تعالیٰ نیک شخص کو جو جزا اور گناہ گار کو جو سزا دیں گے وہ یقیناً قیامت کے دن دیں گے لیکن اس جزاء اور سزا کو سمجھانے کے لیے ایک مثالی صورت بھی ہوتی ہے۔ جیسے قیامت کے دن پل صراط کا وجود ہو گا، اس کی مثالی صورت صراط مستقیم ہے۔ قیامت کے دن موت کو لا کر ذبح کر دیا جائے گا جس کی مثالی صورت دنبہ ہو گی۔ بالکل اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سفرِ معراج میں جن لوگوں کو جنت کی نعمتوں میں یا جہنم کے عذاب میں دیکھا تو یہ ثواب و عذاب کی مثالیں صورتیں تھیں، حقیقتاً ثواب و عذاب نہ تھا۔ مقصود یہ سمجھانا تھا کہ جو شخص نیک اعمال سر انجام دے گا تو اسے یہ نعمتیں ملیں گی اور جو شخص ان جرائم کا مرتکب ہو گا تو اسے یہ سزا ملے گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved