- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
دریافت یہ کرنا ہے کہ سورۃ الرحمٰن میں “فَبِاَیِّ اٰلآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ” ایک ہی آیت کو بار بار کیوں دوہرایا گیا ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
سورۃ الرحمٰن میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں خصوصاً مسلمانوں پر اپنے مختلف انعامات و احسانات کا تذکرہ فرمایا ہےاورہر ہر نعمت اور احسان کے بعد الزامِ حجت کے طور پر “فَبِاَیِّ اٰلآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ” کو ذکر فرمایا ہے، اس تکرار کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ یہ آیات پڑھنے اور سننے والے میں ان نعمتوں پر شکر ادا کرنے کا جذبہ پیدا ہو اور اس کے ضمن میں اطاعت گزاری اور فرماں برداری کا احساس بیدار ہو۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سورۃ میں انعامات کے ساتھ ساتھ عذاب کا تذکرہ بھی موجود ہے اور اس کے بعد بھی “فَبِاَیِّ اٰلآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ” کا ذکر کرنااظہارِ نعمت کے طور پر کیسے ممکن ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عذاب کے ذکر کے بعد بھی اس آیتِ کریمہ کا ذکر کرنا بھی حقیقت میں اللہ پاک کی نعمت اور اس کے فضل کی دلیل ہے، کیوں کہ صرف نفع بخش چیزوں کا اظہار کرنا ہی نعمت نہیں بلکہ نقصان دِہ چیزوں کی نشان دہی کرکے ان سے خبردار کرنا اور ان سے بچنے کی راہیں میسر کرنا بھی بہت بڑی نعمت ہے۔کسی چیز کا تکرار اس وقت فصاحت و بلاغت کے خلاف ہوتا ہے جب وہ محض تکرار ہو ، وہ کسی غرض، مقصد اور افادیت سے خالی ہو، جب کہ سورۃ الرحمٰن میں “فَبِاَیِّ اٰلآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ” کا ذکر ہر مرتبہ ایک الگ مستقل نعمت سے متعلق ہے، اس لیے یہ محض تکرار نہیں جو قابلِ اشکال ہو ۔اور یہ اسلوب عام گفتگو میں بھی استعمال ہوتا ہےجیسے ہم یوں کہتے ہیں، یااللہ!آپ نے ہمیں انسان بنایا، تیرا شکر ہے۔ آپ نے ہمیں ایمان کی دولت عطا کی ، تیرا شکر ہے۔ آپ نے ہمیں اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا فرمایا ، تیرا شکر ہے۔ اس میں ” تیرا شکر ہے” کا جملہ تکرار کے ساتھ ہے، مگر ہر بار الگ نعمت کا شکر کیا گیا ہے اس لیے یہ تکرار بے فائدہ نہیں۔واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved