• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

سنتوں کے بعد اجتماعی دعا کے متعلق اختلاف کی صحیح توجیہ

استفتاء

اللہ رب العزت آپ کی عمر میں برکت عطا فرمائے۔ آمین 

حضرت! ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ سنتوں کے بعد دعا کے حوالے سے بعض اکابرین نے لکھا ہے کہ یہ جائز ہے جیسا کہ ایک فتویٰ میں لکھا ہے کہ اگر التزام کے ساتھ نہ ہو تو افضل ہے، جبکہ بعض علمائے  کرام فرماتے ہیں کہ یہ بدعت ہے۔ تو اس صورت میں بدعت کا فتوی اکابرین پر لگ جاتا ہے ۔ آپ اس مسئلہ پر روشنی ڈال کر ہمیں اس مسئلہ سے تفصیلی آگاہ فرمائیں ۔ شکریہ

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

دونوں باتیں اپنی جگہ درست ہیں۔ جن حضرات نے جواز کی بات کی ہے اس سے مراد عدمِ التزام ہے کہ کبھی کبھار کسی خاص غرض سے دعا کروا لیں تو گنجائش ہے۔ مثلاً امام اور مقتدی سب سنتوں سے فارغ ہوئے تو کسی مریض کی خبر آئی اور اس کی صحت کے لیے دعا کروائی گئی یا علاقہ بھر میں کوئی وبا پھیلی ہوئی تھی اس کے خاتمہ کے لئے دعا کروائی گئی یا سنتوں کے بعد کوئی درس ہوا اور اس کے بعد دعا کروائی گئی تو یہ سب سنتوں کے بعد اجتماعی دعا ہی کی شکلیں ہیں جو بغیر التزام اور پابندی کے کبھی کبھار کی جائیں تو درست ہیں۔اور جن حضرات نے منع کی بات کی ہے اس سے مراد التزام اور پابندی کے ساتھ دعا کرنا ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ بعض علاقوں میں اس دعا کا انتہائی اہتمام کیا جاتا ہے کہ امام یا مقتدی اگر اپنی سنتوں کی ادائیگی سے فارغ ہو جائیں تب بھی انہیں دعا کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ایسا التزام اور پابندی یقینا بدعت ہے۔ لہذا دونوں آراء میں کوئی تضاد نہیں۔ واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved