- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک آدمی سود کا لین دین کرتا ہے۔ اس کی تین بیٹیاں ہیں۔ بچیوں کی پیدائش سے لےکر اب تک پرورش، تعلیم سب اسی سودی پیسے سے ہوئی ہے۔ کوشش ساری زندگی یہی رہی ہے کہ ان سےلین دین، آنا جانا، کھانا پینا، نہ ہو یا کم سے کم ہو، اور اب تک بچ کے ہی رہے ہیں۔اب مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ان کی بیٹی لینے کے لیےان کے گھر رشتہ بھیج سکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
سود کی حرمت بالکل واضح ہے اور اس سے ہر مسلمان آگاہ ہے، قرآنِ کریم میں صاف فرمایا گیا ہے کہ سود خور کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلانِ جنگ ہے۔ اس لیے ان صاحب کو اچھی طرح سمجھائیں اور فوراً سچی توبہ کرنے کی تلقین کریں۔ایک باپ کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد اور دیگر افرادِ خانہ کو لقمۂِ حلال کھلائے، اس لیے اس میں ان صاحب کی بچیوں کا کوئی قصور نہیں ۔ لہٰذا آپ ان کی بیٹی کا رشتہ مانگ سکتی ہیں، البتہ اگر وہ صاحب سمجھانے کے باوجود (اللہ نہ کرے) سود سے باز نہ آئے تو رشتہ داری قائم ہونے کے بعد بھی ان سے لین دین اور دیگر معاملات سے اسی طرح محتاط رہیں جیسے ابھی رہتے ہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved