- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک فاحشہ عورت نے کتے کو پانی پلایا تھا تو اس عمل کی وجہ سے اس کی بخشش ہوگئی تھی ، کیا یہ واقعہ ثابت ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ واقعہ ثابت ہے۔
امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ ( ت 256ھ) حدیث مبارک نقل فرماتے ہیں:
عَنْ أَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا كَلْبٌ يُطِيْفُ بِرَكِيَّةٍ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ إِذْ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِيْ إِسْرَائِيْلَ فَنَزَعَتْ مُوْقَهَا فَسَقَتْهُ فَغُفِرَ لَهَا بِهٖ۔
صحيح البخاری: حدیث نمبر3467
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ایک کتا ایک کنویں کے گرد چکر لگا رہا تھا، قریب تھا کہ پیاس (کی شدت) اسے کہ ہلاک کر دے۔ اتنے میں بنی اسرائیل کی بدکار عورتوں میں سے ایک عورت نے اسے دیکھا، تو اس نے اپنا چمڑے کا موزہ اتارا، اس کے ذریعے سے(کنویں سے پانی نکال کر) اسے پانی پلایا، پس اس عمل کی وجہ سے اس کی مغفرت کر دی گئی۔ “
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved