- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک صاحب فوت ہوئے ، ورثاء میں ایک بیوہ ، دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ،ان کے درمیان ترکہ کی تقسیم کیسے ہو گی؟ ہر ایک وارث کو شرعی حصہ کتنا ملے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
کل مال میں سے بیوہ کو آٹھواں حصہ ، ہر بیٹے کو دوہرا(ڈبل) اور ہر بیٹی کو اِکہرا(سنگل) حصہ ملے گا۔ مثال کے طور پر کل ترکہ کی مالیت 5 لاکھ ہے، اس کی تقسیم درج بالا ورثاء میں یوں ہو گی۔کل ترکہ = 500,000 روپے➊ بیوہ کا حصہ:1/8 = 500,000 ÷ 8 = 62,500 روپے➋ باقی رقم:500,000 − 62,500 = 437,500 روپےبیوہ کو62,500 روپے اور باقی رقم (437,500)اولاد (2 بیٹوں اور 3 بیٹیوں) میں تقسیم ہوگی، اس اصول پر کہ ہر بیٹے کو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک حصہ ملے۔ اس حساب سے ہر بیٹے کو 125,000 اور ہر بیٹی کو 62,500 روپے ملیں گے۔بیوہ 8/1 62,500بیٹا 2 حصے 125,000بیٹا 2 حصے 125,000بیٹی 1 حصہ 62,500بیٹی 1 حصہ 62,500بیٹی 1 حصہ 62,500کل رقم= 500,000خلاصہ:بیوہ کو پانچ لاکھ روپے میں سے 62,500 روپے ملیں گے۔ باقی 4,37,500 روپے میں ہر بیٹے کو 1,25,000 اور ہر بیٹی کو 62,500 روپے ملیں گے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved