- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
بعض خواتین کی عادت ہوتی ہے کچھ خاص قسم کی مٹی کھانے کی، تو مٹی کھانے کا کیا حکم ہے؟ کیا ان کو یہ کہہ کر منع کر سکتے ہیں کہ مٹی کا کھانا حرام ہے، مت کھاؤ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مٹی کا کھانا حرام نہیں ہے، بلکہ مکروہ ہے۔ کراہت کی وجہ یہ ہے مٹی کھانے سے مختلف اَمراض پیدا ہوتے ہیں، اس لیے مٹی کھانے سے منع کیا جاتا ہے۔جو خواتین کھاتی ہیں ان کو سمجھائیں کہ اس کا کھانا طِبّی طور پہ نقصان دِہ ہے، نہ کھائیں۔فتاویٰ عالمگیری میں ہے:أَكْلُ الطِّيْنِ مَكْرُوْهٌ…… وَكَرَاهِيَةُ أَكْلِهٖ لَا لِلْحُرْمَةِ بَلْ لِتَهْيِيْجِ الدَّاءِ۔(ج:5 ص:340کتاب الکراہیۃ، الباب الحادي عشر في الكراهة في الأكل وما يتصل به:)
ترجمہ: مٹی کھانا مکروہ ہے…اور اس کے کھانے کا مکروہ ہونا حرام ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ (مختلف) اَمراض اور بیماریوں کا سبب بننے کی وجہ سے ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved