- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اولاد کے صالح وفرمانبردار پیدا ہونے میں طریقہ صحبت کا کسی حد تک دخل ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اولاد کے نیک یا نافرمان ہونے میں صحبت کے ظاہری طریقہ کا کوئی دخل نہیں بلکہ نیت، دعا، طہارت اور دینی آداب کا اثر ہوتا ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے صحبت کے جسمانی طریقے کے بجائے اس کے روحانی و اخلاقی آداب پر زور دیا ہے اور اس موقع پر آداب و دعائیں سکھلائیں تاکہ یہ عمل پاکیزگی، نیتِ خیر اور اطاعتِ الٰہی کے ساتھ انجام پائے ۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ، إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ، قَالَ: بِاسْمِ اللّٰہِ، اَللّٰهُمَّ! جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ. وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فَإِنَّهُ، إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذٰلِكَ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَان أَبَدًا(صحیح مسلم: حدیث نمبر 3533)
ترجمہ: اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھے:بِاسْمِ اللّٰہِ، اَللّٰهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنَااللہ کے نام سے، اے اللہ! ہمیں شیطان سے بچا اور جو اولاد تو ہمیں عطا فرمائے اُسے بھی شیطان سے محفوظ رکھ، تو اگر اس تعلق سے ان کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے، تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔خلاصہ:اصل اثر نیت، دعا، طہارت، اور پاکیزہ ماحول کا ہوتا ہے، نہ کہ جسمانی طرزِ عمل کا۔ جسمانی طور پر کوئی خاص طریقہ متعین نہیں بلکہ بیوی کے حلال مقام میں جس طریقہ سے سہولت و آسانی ہو، شوہر صحبت کر سکتا ہے۔ اگر نیت خالص ہو، طریقہ حلال ہو، اور عمل کے ساتھ اللہ کی یاد شامل ہو یہی وہ بنیاد ہے جو پیدا ہونے والی نسل کو روحانی تحفظ فراہم کرتی ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved