- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک عورت نے بلی کو باندھ کر رکھا تھا اس کو کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں دیا تو وہ بھوک پیاس کی وجہ سے مرگئی، کیا یہ واقعہ درست ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ واقعہ ثابت ہے۔امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ ( ت 256ھ) حدیث مبارک نقل فرماتے ہیں:عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عُذِّبَتْ امْرَأَةٌ فِيْ هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتّٰى مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا سَقَتْهَا إِذْ حَبَسَتْهَا وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ۔
صحيح البخاری: حدیث نمبر3482
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ایک عورت کو ایک بلی کے معاملے میں عذاب دیا گیا؛ اس نے اسے باندھ کر رکھا یہاں تک کہ وہ(بھوکی پیاسی) مر گئی، اور اسی (ظلم) کے سبب وہ جہنم میں داخل ہوئی۔ نہ تو اس نے اسے کھانا دیا، نہ پانی پلایا جب اس نے اسے قید کر رکھا تھا، اور نہ ہی اسے آزاد چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے (حشرات الارض)ہی کھا لیتی۔“واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved