• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

حرام مال کا کیا مصرف ہے؟

استفتاء

اگر کوئی شخص ناجائز (حرام) طریقے سے مال کماتا رہا ہو، اور اس حرام مال سے اُس نے خاصی دولت بھی جمع کر لی ہو، لیکن پھر وہ سچے دل سے توبہ کر لے اور اب وہ چاہتا ہو کہ اپنی زندگی کو حلال و پاکیزہ طریقے پر گزارے، تو ایسے شخص کو اس جمع شدہ حرام مال کے بارے میں کیا کرنا چاہیے؟ کیا وہ مال اس کے لیے باقی رہتا ہے؟ یا اس میں کسی خاص طریقے سے تصرف کرنا ہوگا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جن افراد کا مال ناجائز ذریعہ سے لیا تھا:• اگر وہ موجود ہیں تو وہ مال ان تک پہنچانا ضروری ہے۔• اگر وہ موجود نہیں ، دنیا سے جا چکے ہیں تو ان کے ورثا تک پہنچایا جائے۔اگر ورثاء تک بھی رسائی ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں ان کی طرف سے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کر دیا جائے۔• اگر وہ مال ایسے افراد سے لیا ہو جو معلوم نہ ہوں تو ان کی طرف سے بھی ثواب کی نیت کے بغیر مستحق افراد میں صدقہ کر دیا جائے۔نوٹ: مال واپس کرنے کی صورت میں یہ بتلانا ضروری نہیں ہے کہ یہ آپ کا مال میں نے ناجائز ذریعہ سے لیا تھا، بس اتنا کافی ہے کہ وہ ان کی ملکیت میں چلا جائے، اس کے لیے ہدیہ/ گفٹ یا خدمت وغیرہ میں سے کوئی عنوان اختیار کیا جا سکتا ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved