- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک ساتھی فوج میں ملازم ہے، فوج میں قانون یہ ہے کہ ہر ملازم کی تنخواہ میں سے جبراً ایک طے شدہ رقم کاٹ لیتے ہیں اور اس کو تجارت میں لگا دیتے ہیں۔ تقریباً انیس یا بیس سال بعد وہ جمع شدہ اصل رقم واپس کرتے ہیں مگر ساتھ نفع کے نام پر سود بھی دیتے ہیں، ان کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ یہ منافع مرابحہ کے طور آپ کو ملا ہے۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ منافع کے نام پہ ملنے والی اس اضافی رقم کا استعمال ہمارے لیے جائز ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جو صورت آپ نے لکھی ہے اس میں منافع کے طور پر ملنے والی اضافی رقم “سود” میں داخل نہیں۔لہٰذا اسے ذاتی استعمال میں لانا جائز ہے۔اس نفع کے بارے یہ کہیں گے کہ یہ ادارہ کی طرف سے تبرّع اور احسان کے طور پہ دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ جب ادارہ خود وضاحت پیش کر رہا ہے کہ یہ وہ نفع ہے جو آپ کے اصل سرمایہ کی وجہ سے حاصل ہوا ہے، اب تردّد کی کوئی وجہ نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved