- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک شخص کو اس کے سوتیلے باپ یعنی اس کے چچا نے پالا، تو اس کے چچا نے ایسا کیا کہ اس کی زندگی میں وراثت طے کر کے کچھ اپنے سگے بیٹوں کو دے دیا کر زمین وغیرہ اور کچھ اس کو یعنی اپنے سوتیلے بیٹے کو بھی دے دیا۔اب جب اس کے باپ کا انتقال ہوا کچھ عرصہ گزرا تو اپ بچے اس کے بہنیں یا بہنوئی یا اس کے بھائی وہ آ جاتے ہیں کہ بھائی آپ تو سگے بیٹے نہیں ہو اس لیے آپ کا حصہ نہیں بنتا ، لیکن بہرحال پھر بھی ایسا کرو کہ جو آپ کا گھر ہے اس کے اندر سے ہمارا حساب ہمیں دے دو اور باقی جو آپ کا حصہ ہے وہ آپ رکھ لو۔1: کیا یہ جو اس کے باپ کا زندگی میں تقسیم کرنا کیا یہ وراثت کہلائے گا یا نہیں ؟2: وہ جو حق مانگ رہے ہیں تو ان کا حق مانگنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جواب سے قبل چند باتیں سمجھ لیجیے!
پہلی بات: ہر انسان اپنی زندگی میں اپنے مال و زر کا خود مالک و مختار ہوتا ہے، وہ اپنے مال میں جو بھی جائز تصرّف کرنا چاہے کرسکتا ہے۔ جب تک انسان زندہ رہے اس کےمال میں میراث جاری نہیں ہوتی، اس لیے اس کی زندگی میں اس کے مال میں کسی وارث کا کوئی حق نہیں ہوتا اور نہ ہی اولاد میں سے کوئی فرد اپنے حصے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
دوسری بات: اگر کوئی بندہ اپنی خوشی سے اپنی زندگی ہی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد کو تقسیم کرنا چاہے تو ایسا کرنا شرعاً جائز ہے،لیکن یہ معاملہ وراثت کی تقسیم نہیں بلکہ یہ ہدیہ، عطیہ، تحفہ یا گفٹ کہلاتا ہے ۔ یاد رہے کہ وراثت ”ترکہ“ میں ہوتی ہے اور ”ترکہ“ اس مال کو کہا جاتا ہے جو بوقتِ وفات مرنے والے کی ملکیت میں موجود ہو۔
تیسری بات: متبنّٰی (لے پالک ، گود لیا ہوا بچہ ) کو ؛ نسبی اور حقیقی اولاد کے حقوق حاصل نہیں ہوتے ، اس لیے شرعاً وہ ترکہ کا وارث نہیں بنتا۔ لیکن اگر ”لے پالک“ بنانے والاشخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد یا مال میں سے کچھ حصہ بطور ہبہ (تحفہ) متبنّٰی کو دے دے اور وہ اس مال پر قابض بھی ہو جائے، تو شرعی طور پر وہ مال متبنّٰی کی ملکیت میں آ جائے گا۔ ملکیت میں آنے کے بعد اس مال میں ہبہ دینے والے شخص(سوتیلے والد) کا اور اس کی وفات کے بعد اس کے شرعی ورثاء میں سے کسی کا کوئی حصہ یا حق نہیں ہو گا۔
چوتھی بات: ”لے پالک“ بنانے والےشخص کی وفات کے وقت اگر کوئی مال یا جائیداد اس کی ملکیت میں باقی ہو تو وہ” ترکہ“ کہلائے گا، یہ ” ترکہ“ اس کے شرعی ورثاء (حقیقی اولاد، بیوہ، والدین وغیرہ) کے درمیان قواعدِ وراثت کے مطابق تقسیم ہوگا۔ اس ترکہ میں متبنّٰی کا کوئی حصہ نہیں ہوگا، کیونکہ وہ شرعاً وارث شمار نہیں ہوتا۔
آپ کے سوالات کے جوابات حسبِ ذیل ہیں:
1: اپنی زندگی میں جو مال/ جائیداد اس مرحوم (سوتیلے والد) نے تقسیم کیا وہ وراثت نہیں کہلائے گا بلکہ ہبہ/ عطیہ اور گفٹ کہلائے گا۔
2: مرحوم(سوتیلے والد) نے چونکہ اپنی زندگی میں اس مال میں سے حصہ اپنے سوتیلے بیٹے(لے پالک) کے قبضہ میں دے دیا تھا ، اس لیے اب اس کی وفات کے بعد دیگر ورثاء(مرحوم کے حقیقی بیٹوں ، بیٹیوں اور بھائیوں وغیرہ) کا اس مال میں سے حصہ طلب کرنا جائز نہیں ہے ، کیوں کہ ”لے پالک“ کو دیے گئے اس مال میں ان کا شرعاً کوئی حق نہیں بنتا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved