- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ہماری ایک ممانی ہے اس نے کسی بندے کو تقریباً دیا ہوا ہے 13 لاکھ روپے، وہ بندہ اس کا قریبی رشتہ دار ہے۔ تو وہ اس کو مہینے کا کبھی 16 ہزار دے دیتا ہے کبھی 13 ہزار، کبھی 14 ہزار کبھی 20 ہزار۔ اس طرح کر کے اس کی جو ماہانہ بچت ہوتی ہے وہ اس کو ملتی ہے۔ تو وہ پوچھ رہی ہے کہ یہ جو میرے اوریجنل اس کے پاس پیسے موجود ہیں یعنی 13 لاکھ روپے ، کیا اس رقم پر میرے ذمہ زکوٰۃ بنتی ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مالِ مضاربت (جو مال تجارت کے لیے کسی کو دیا جائے) اس مال پر بھی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ اگر اس مال میں نفع حاصل ہو رہا ہو تو نفع کی رقم کو بھی ساتھ شامل کیا جائے گا۔لہٰذا آپ کی ممانی کی رقم 13 لاکھ کی زکوٰۃ ان پر واجب ہوگی اگر اس کے نفع میں ملنے والی رقم یا دیگر رقم موجود ہو تو اسے بھی ساتھ شامل کر لیا جائے گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved