• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مال حرام سے قرض وصول کرنے کا حکم

استفتاء

اگر ہم نے کسی کو قرض دیا اور وہ ہم کو اب قرض دے رہا ہے لیکن ہمیں یہ معلوم ہے کہ اس کی اکثر کمائی حرام کی ہے تو کیا ہم اس صورت میں اس سے اپنا دیا ہوا قرض واپس لے سکتے ہیں؟ جب کہ اس کی اکثر کمائی حرام ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر قرض خواہ کو معلوم ہو کہ مقروض کا مال اصل مالک کی اجازت اور شریعت کے حکم کے بغیر(چوری، ڈکیتی یا غصب وغیرہ کے ذریعے) حاصل کیا گیا ہے تو اس مال سے قرض وصول کرنا اور اس سے فائدہ اٹھاناحرام ہے۔ایسی صورت میں قرض خواہ کو شرعاً یہ حق حاصل ہے کہ وہ مقروض کو اس بات پر مجبور کرے کہ وہ مال حلال سے اس کا قرض ادا کرے۔اور اگر قرض خواہ یہ جانتا ہو کہ مال اصل مالک کی اجازت سے تو حاصل ہوا ہے مگر شرعاً ناجائز ذرائع (سود، جُوا ، یا ناچ گانے کے ذریعے) کمایا گیا ہے تو اس صورت میں قرض وصول کرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا شرعاً جائز ہے۔ البتہ تقویٰ کا تقاضا یہی ہے کہ اس سے بھی اجتناب کیا جائے اور مقروض کو حلال مال سے قرض کی ادائیگی کا پابند بنایا جائے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved