• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کیا وقوعِ طلاق کے لیے گواہ شرط ہیں؟

استفتاء

میں راولا کوٹ رہتا ہوں، بیرون ملک میں ملازمت کرتا ہوں۔میں نے پہلی طلاق فیملی کے جھگڑوں کی وجہ سے دی تھی ، پھر واپس رجوع کر لیا تھا۔ یہ رجوع کسی گواہ کی موجودگی میں نہیں کیا تھا، بلکہ اکیلے فون پر کیا تھا۔ پھر دوسری طلاق فیملی کے جھگڑوں کی وجہ سے غصے میں دے دی تھی، پھر تیسرے ماہ کے آخری ایام میں کسی گواہ کے بغیر اکیلے کال پر رجوع کر لیا تھا، پھر چھٹی گیا تھا۔ایک ماہ سب کچھ ٹھیک تھا، ایک ماہ بعد کسی کی باتوں میں آ کر تیسری بار ایک ساتھ طلاق دے دی تھی۔میں نے کچھ بیانات سنے جن میں وہ فرماتے ہیں کہ طلاق کے لیے کسی گواہ کا ہونا ضروری ہے، گواہ موجود ہوتے ہیں پھر طلاق واقع ہوتی ہے۔ آپ رہنمائی فرمائیں کہ میری دی ہوئی طلاق واقع ہوئی ہیں یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

شریعت میں نکاح کے انعقاد کے لیے تو گواہ شرط ہیں لیکن طلاق کے وقوع کے لیے گواہ شرط نہیں ہیں۔ طلاق کا اختیار شوہر کو حاصل ہوتاہے، شوہر گواہ کے بغیر بھی طلاق دے تو وہ واقع ہو جاتی ہے۔آپ چونکہ تینوں طلاقیں دے چکے ہیں، اس لیے آپ کی بیوی آپ پر مکمل حرام ہو چکی ہے، اب دوبارہ نکاح سے بھی حلال نہیں ہو گی جب تک کہ شرعی حلالہ نہ ہو جائے۔شرعی طریقہ سے حلالہ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی( سابقہ) بیوی طلاق کی عدت تین حیض (حیض نہ آنے کی صورت میں تین ماہ)پورے کرے ، اس کے بعد کسی اور شخص سے نکاح ہو، نکاح کے بعد ان دونوں میں جسمانی تعلق قائم ہو، اس کے بعد اس شوہر سے طلاق ہو جائے یا وہ فوت ہو جائے تو اس کی عدتِ طلاق تین حیض (حیض نہ آنے کی صورت میں تین ماہ) یا عدتِ وفات چار ماہ دس دن مکمل کرے، پھر باہمی رضامندی سے نئے حق مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں آپ کے ساتھ نکاح جائز ہو گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved