• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

چاند یا سورج گرہن کے متعلق چند مشہور باتوں کی تحقیق

استفتاء

عرض یہ ہے کہ عام لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ جب سورج گرہن ہو یا چاند گرہن ہو تو اس دوران حاملہ عورت گھر سے باہر نہ نکلیں اور نہ لوہے کی کوئی چیز ہاتھ میں اٹھائیں اور نہ نہائے کیا شریعت اسلامیہ کی رو سے یہ باتیں درست ہے یا نہیں براہ کرم اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں.

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

واضح رہے کہ عام لوگوں میں جویہ بات مشہور ہے کہ جب سورج گرہن ہو یا چاند گرہن ہو تو اس دوران حاملہ عورت گھر سے باہر نہ نکلیں اور نہ لوہے کی کوئی چیز ہاتھ میں اٹھائیں اور نہ نہائےوغیرہ یہ بے بنیاد باتیں ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے ان کا تعلق شریعت سے نہیں ہے ۔سورج یا چاند گرہن ہونا یہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہے اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز کی ادائیگی کا عمل اپنایا ہے ۔حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَقُومُوا فَصَلُّوا. صحیح بخاری۔کتاب صلاۃالکسوف ،رقم الحدیث : 1041ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا سورج اور چاند میں گرہن کسی شخص کی موت سے نہیں لگتا۔ یہ دونوں تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ اس جب یہ ہوں تو کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved