- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
یہ دو ملتے جلتے مسائل پیش آئے ہیں، آپ شریعت کے مطابق رہنمائی فرمائیں ۔1: ایک دوست نے دوسرے سے ادھار لیا پاکستانی روپے میں 1 لاکھ کہ چند دنوں میں واپس کر دے گا۔ دن سال میں بدلے وہ واپس نہیں کرسکا۔ 20 سال بعد اب وہ رقم واپس کرنا چاہتا ہے تو کس حساب سے واپس کرے؟ اگر 20 سال پہلے ایک لاکھ کی گاڑی آتی تھی تو آج 5 لاکھ کی ہے، تو کیا اس کو بیس بنا سکتے ہیں۔2: ایک شخص فوت ہوا اور اس کی وراثت دو بیٹوں اور دو بیٹیوں میں دو کروڑ اور ایک کروڑ کے حساب سے تقسیم طے پائی۔ لڑکوں نے بولا ابھی پیسہ بزنس میں لگا ہے ہم بعد میں بہنوں کو دیں گے۔ کرتے کرتے 20 سال گزر گئے ، اب وہ بہنوں کو حصہ کس حساب سے دیں گے ؟ موجودہ مالیت یا بیس سال پہلے والی قیمت کے حساب سے؟ کیونکہ روپے کی قیمت اب گھٹ گئی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
[1]: روپے کی قیمت کم ہو یا زیادہ ، مقروض پر جس قدر رقم کی ادائیگی واجب ہو وہ اتنے ہی ادا کرنے کا پابند ہو گا۔ زیادہ وقت گزرنے یا کرنسی میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے قرض کی مقدار میں کمی بیشی نہیں ہو گی۔[2]: میراث کی تقسیم میں موجودہ مالیت کا اعتبار ہو گا ۔ موجودہ مالیت کے حساب سے چھ حصے کر لیے جائیں، دو دو حصے ہر بھائی اور ایک ایک حصہ ہر بہن کو دیا جائے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved