• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کا حکم (IVF/ICSI)ٹیسٹ ٹیوب بےبی

استفتاء

میری شادی کو تقریباً پانچ سال ہو چکے ہیں، لیکن تاحال اولاد کی نعمت نصیب نہیں ہو سکی۔ اس عرصے میں جو بھی ممکن اسباب تھے، وہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔میری اہلیہ کے ابتدائی میڈیکل ٹیسٹ کرائے گئے، جن میں معلوم ہوا کہ ان کی ایک فاللوپین ٹیوب بند ہے جبکہ دوسری کھلی ہوئی ہے، اس وجہ سے ڈاکٹرز نے بتایا کہ قدرتی طور پر حمل ممکن تو ہے، لیکن چانس کم ہو سکتے ہیں۔ ان کے حیض کے پہلے دن سے ہی شدید تکلیف رہی ہے، جو شادی سے پہلے بھی اسی شدت کے ساتھ موجود تھی۔ مختلف ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ شادی کے بعد یہ درد کم ہو جائے گا، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔اب ڈاکٹر حضرات نے مشورہ دیا ہے کہ ان کی تشخیص اور علاج کے لیے لیپروسکوپی کروائی جائے، تاکہ واضح طور پر دیکھا جا سکے کہ اندرونی طور پر ٹیوب یا رحم کے آس پاس کوئی رکاوٹ، انفیکشن یا اینڈومیٹریوسس وغیرہ تو موجود نہیں، اور اگر کوئی ایسی چیز ہے تو اسی وقت اس کا علاج بھی ممکن ہو سکے۔ کیا یہ کروا دیا جائے ؟اسی طرح IVF یا ICSI (یعنی ٹیسٹ ٹیوب بےبی) کے طریقے بھی بار بار تجویز کیے گئے، لیکن دل ان پر مطمئن نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ جو بھی قدم اٹھایا جائے، وہ اللہ کی رضا، طبعی سکون اور شرعی دائرے کے اندر ہو۔درخواست ہے کہ رہنمائی فرمائیں کہ ایسے حالات میں ہمیں کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے، کون سے اقدامات بہتر اور اللہ تعالیٰ کی رضا و برکت کے قریب تر ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے دونوں طریقے(IVF عام طریقہ اورICSI خاص طریقہ) بوقتِ ضرورت چند شرائط کے ساتھ اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔ وہ شرائط حسبِ ذیل ہیں:1: زوجین کی محدودیتنطفہ (سپرم) صرف شوہر کا اور بیضہ صرف بیوی کا ہو۔ کسی غیر مرد کا نطفہ یا غیر عورت کا بیضہ استعمال کرنا ؛ ناجائز اور حرام ہے۔2: رِحم (womb) کی شرطنطفہ اور بیضے سے بننے والا حمل صرف اپنی ہی بیوی کے رحم میں منتقل کیا جائے۔ کسی اور عورت (جیسے کرایے کی کوکھ، Surrogacy) کا رحم استعمال کرنا ، ناجائز ہے۔3: حرام اختلاط سے بچاؤعمل کے دوران نطفے یا بیضے کا اختلاط کسی اور کے مادے سے نہ ہو۔ لیبارٹری میں نطفے اور بیضے کی حفاظت اور شناخت کا سخت اہتمام ہو ، تاکہ کسی قسم کی کوئی گڑبڑ نہ ہو۔4: عریانی اور پردے کا لحاظعلاج کی مجبوری کی حد تک ڈاکٹر کے سامنے بقدرِ ضرورت عورت کا ستر کھولنا جائز ہوگا۔ حتی الامکان خاتون ڈاکٹر سے علاج کروایا جائے۔5: غیر ضروری خواہشات سے اجتنابیہ طریقہ صرف اسی وقت اختیار کیا جائے جب عام قدرتی طریقے سے اولاد ہونا ممکن نہ رہے، اور دوا و علاج کارگر نہ ہو۔ بلا ضرورت یا صرف سہولت کے لیے یہ طریقے اپنانا درست نہیں۔درج بالا شرائط پر عمل کرتے ہوئے آپ یہ طریقہ علاج اختیار کر سکتے ہیں۔ اللہ کریم آپ کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے اور صالح اولاد سے نوازے، آمین۔ واللہ اعلم بالصواب

© Copyright 2025, All Rights Reserved