• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

جس علاقے میں حلال ذبیحہ نہ ملتا ہو تو کیا وہاں مشینی ذبیحہ استعمال کر سکتے ہیں؟

استفتاء

آپ سے ایک اہم اور حساس مسئلے کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔ یہاں امریکہ میں ذبیحہ کا مسئلہ نہایت پیچیدہ صورتِ حال اختیار کر چکا ہے۔ ہینڈ سلاٹر اور مشین سلاٹر کے درمیان عوام بالعموم واضح فرق نہیں کرتے۔ اکثر لوگ دونوں کو جائز سمجھتے ہیں، جبکہ کئی دکاندار مشین سلاٹر کے گوشت کو “ذبیحہ حلال” کے نام سے فروخت کر رہے ہیں۔یہاں صرف چند ہی دکانیں ایسی ہیں جو واقعی صحیح ہینڈ سلاٹر ذبیحہ فروخت کرتی ہیں، جن کے درست ہونے کی شہادت یہاں کے معتبر ادارے مفتاح انسٹی ٹیوشن کے علماء نے دی ہوئی ہے۔لیکن گزشتہ چند دن قبل ہمیں اُس دکان کے متعلق یہ اطلاع ملی—جہاں سے ہم باقاعدگی کے ساتھ گوشت حاصل کیا کرتے تھے—کہ وہاں اب دھوکے سے کام لیا جا رہا ہے اور انہوں نے ہینڈ سلاٹر ذبیحہ کی فروخت بند کر دی ہے۔ اس اطلاع کے بعد ہم نے فوراً وہاں سے گوشت لینا بند کر دیا۔اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ یہاں فی الحال صرف ایک یا دو دکانیں ہی باقی رہ گئی ہیں جو ہینڈ سلاٹر ذبیحہ فروخت کرتی ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے اپنے لوگ بھی اب اس فرق کو سمجھنا چھوڑ چکے ہیں اور ہر جگہ سے گوشت حاصل کر رہے ہیں اور سب کو جائز سمجھ رہے ہیں۔ انہیں اس مسئلے کی اہمیت سمجھانا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ایسی صورتِ حال میں ہمارے لیے کیا بہتر طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟ ہم آپ سے اس مسئلے پر واضح شرعی رہنمائی اور مناسب مشورہ طلب کرتے ہیں، تاکہ ہم صحیح راستے پر قائم رہ سکیں۔ نیز یہ بھی معلوم کرنا مقصود ہے کہ اس قسم کی مجبوری اور پیچیدہ صورتِ حال میں مشین سلاٹر کا شرعی حکم کیا ہے؟اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور آپ کے علم کے ذریعے اُمت کو نفع پہنچائے۔ آپ کے جواب کے منتظر رہیں گے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مشینی ذبیحہ کی دو صورتیں ہیں ، دونوں کا حکم الگ ہے۔پہلی صورت: مشین سے جانور کو صرف گرفت میں رکھا جاتا ہو اور اس کو ذبح کرنے والا مسلمان یا متدیّن (مذہبی تعلیمات پر عمل کرنے والا)اہلِ کتاب ہو جو شرعی طریقہ کے مطابق ذبح کرے ، تو اس صورت میں ذبیحہ حلال ہے۔دوسری صورت: ذبح کرنے والی مشین ہو جیسا کہ عموماً ہوتا ہے، اس صورت میں ذبیحہ حلال نہیں۔[2]: اگر آپ کے علاقہ میں شرعی ذبیحہ دستیاب نہ ہو تو وہاں کوئی دوسرا علاقہ جہاں سے حلال ذبیحہ میسر ہو وہاں سے خرید لیا کریں۔[3]: مزید دیکھیں اگر کوئی پرائیویٹ سلاٹر جنہیں جانور خرید کر دیا جائے اور وہ شرعی طریقہ سے ذبح کر کے دیتے ہوں تو ان کی خدمات لے لی جائیں۔[4]: آپ نے جو صورت حال بیان کی یہ اس شرعی عذر میں داخل نہیں جسے اصطلاح میں ”حالت اضطرار“ کہا جاتا ہے جس میں مُردار یا غیر شرعی ذبیحہ وغیرہ کھانے کی چند شرائط کے ساتھ شرعاً اجازت ہوتی ہے۔اس لیے جب تک حلال ذبیحہ نہ ملے تب تک آپ گوشت کھانا ترک کر دیں۔ اگر گوشت سے شوق پورا کرنا بھی ہو توبہترین متبادل مچھلی ہے ، وہ استعمال کر لیا کریں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved