- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اگر رات کو سوتے ہوئے احتلام ہو جائے اور بغیر نہائے روزہ رکھ لے اور نماز فجر قضا کر لے پھر صبح کو اُٹھ کر غسل کر لے، تو کیا اس طریقے سے روزہ ہو جائے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
• نماز اور روزہ دونوں فرض ہیں ، دونوں کو ادا کرنا لازمی ہے، روزہ رکھ کر فجر کی نماز کو قضا نہ کریں۔
• اگر سحری کا وقت کم ہو اور نہانا ضروری ہو تو وضو کر کے یا ہاتھ دھو کر اور”کلی“ کر کے سحری کر لیں، اس طرح روزہ ہو جاتا ہے۔
• سحری کے بعد نماز کا وقت کافی ہوتا ہے اس میں آرام سے غسل کر کے نماز ادا کر لیں۔
• سحری کے بعد (روزہ کی حالت میں) فرض غسل کرتے ہوئے دو چیزوں میں احتیاط کریں۔
1: ناک میں اوپر(نرم ہڈی) تک پانی نہ پہنچائیں۔ بس ویسے ناک میں پانی پہنچائیں جیسے وضو میں کرتے ہیں۔
2: صرف کلی کریں، غرارہ نہ کریں۔
کیوں کہ پانی ناک میں چڑھانے سے یا غرارہ کرنے سے اکثر اوقات پانی حلق میں چلا جاتا ہے اور حلق میں پانی جانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved