• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

طے شدہ رقم کی صورت میں نفع لینے کا حکم

استفتاء

ہمارا ایک پھوپھی زاد لڑکا ادھر ابوظہبی میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہے۔اس نے مجھے کہا ہے کہ میرے پاس دس ہزار درہم کے لگ بھگ رقم موجود ہے، وہ رقم آپ اپنی دکان کے کاروبار میں ڈال دو۔ اس رقم سے ٹائر خرید کے فروخت کرو، ہر ٹائر پر آٹھ یا دس درہم نفع ہر ماہ مجھے دے دیا کرو، باقی نفع آپ خود رکھ لیا کرو ۔ دکان کا خرچ اور مزدوری بھی ہمارے ذمہ ہے، اس کو ہر ماہ صرف مخصوص رقم نفع کے طور پر چاہیے ۔ کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس طریقے سے رقم متعین کر کے نفع لینا جائز نہیں ہے۔نفع کی تقسیم فیصد یا حصوں کے لحاظ سے کرنا ضروری ہے۔یعنی تقسیم یوں کی جائے کہ سو میں سے دس فیصد میرا باقی نوے فیصد آپ کا، یا ایک حصہ میرا دو حصے آپ کے۔ آپ نے اس معاملے کے طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی کہ سرمایہ صرف اسی کا ہوگا یا آپ کا بھی شامل ہو گا۔ اس بارے میں یہ تفصیل ذہن میں رکھیے۔اگر آپ ٹائر کی خریداری صرف ان کی رقم سے کریں گے، اپنا سرمایہ شامل نہیں کریں گے، محنت اور کام آپ کریں گے تو اس صورت کو “مضاربت” کہتے ہیں۔ اس میں نقصان کی ذمہ داری آپ کے پھوپھی زاد پر ہو گی کیوں کہ سرمایہ اس کا ہے۔ اگر ان کی رقم کے ساتھ آپ اپنی رقم شامل کرکے ٹائر کی خرید و فروخت کریں گے تو یہ ” شراکت” بن جائے گی۔ اس صورت میں نفع کی تقسیم دونوں شریک اپنے اپنے سرمایہ کے تناسب سے کر لیں یا باہمی رضا مندی سے فیصد یا حصوں کے لحاظ سے جو بھی طے کر لیں ، اور نقصان میں دونوں پارٹنر اپنے اپنے سرمایہ کے تناسب سے شریک ہوں گے۔واللہ اعلم بالصواب

© Copyright 2025, All Rights Reserved