• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

عدت کے دوران خواتین سے پردہ کرنا کیسا ہے؟

استفتاء

بعض علاقوں میں یہ مشہور ہے کہ عدت کے دوران عورت کا خواتین سے بھی پردہ ہوتا ہے، کیا یہ بات درست ہے؟ اسی طرح ایک مسلمان خاتون کے لیے غیر مسلم عورتوں سے پردہ کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ایک مسلمان عورت کو شریعت نے اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ تمام غیر مَحرم مَردوں سے پردہ کیا کرے، چاہے  وہ نا محرم مَرد رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دارہوں۔  عورت کو عورتوں سے پردہ کرنے کا حکم شریعت نے نہیں دیا، خواہ عام حالات ہوں یا عدت کے ایام   ہوں۔ 
ہاں اگرغیر مسلم یا مسلمان عورتیں اس قسم کی ہوں کہ جن کا طرزِ زندگی غیر مہذّب اور غیر شریفانہ ہو   ، تو ان سے چہرہ چھپا لینے کی اجازت ہے، بلکہ  بہتر یہ ہے کہ  ان کو گھر میں نہ آنے دیا جائے۔ کیوں کہ اکثر اوقات ایسی خواتین  گھر یلو اَحوال کی مخبری کرتی ہیں، اس بنیاد پر شر پسند عناصر  کے لیے نقصان پہنچانا سہل ہو جاتا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved