• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

عدت گزارنے کے بجائے کفارہ دینے کا حکم

استفتاء

میری خالہ ہیں جن کا خاوند نشہ کا عادی تھا۔ کئی بار اسے سمجھایا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ پھر خالہ نے اس سے علیحدگی اختیار کی اور علیحدگی کو اب تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔ اب خالہ کے شوہر نے خالہ کو طلاق دے دی ہے۔ اب وہ عدت گزاریں گی۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ خالہ عدت نہیں کرنا چاہتیں۔ وہ پوچھ رہی ہیں کہ اگر کوئی ایسی صورت ہو کہ میں عدت گزارنے کے بجائے کوئی فدیہ یا کفارہ دے دوں تو کیا شریعت میں اس کی گنجائش ہے؟ اگر گنجائش ہے تو بتائيں، میں وہ ادا کر دوں گی۔ برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

طلاق ہو جانے کی صورت میں عورت پر عدت گزارنا لازم ہے۔ عدت کے بجائے کفارہ وغیرہ ادا کرنا جائز نہیں۔ اس لیے آپ کی خالہ عدت ہی گزاریں۔ دورانِ عدت پابندیوں پر اہتمام سے عمل پیرا ہوں ۔﴿وَالْمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْۗءٍ﴾ (سورۃ البقرۃ: 228)ترجمہ: جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو وہ تین مرتبہ حیض آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں (یعنی تین حیض عدت گزارنا لازم ہے اگر حیض نہ آتا ہو تو تین ماہ مکمل کریں)۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved