- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
مذہبی آزادی جو انسان کو ہر مذہب اور آئین نے دی ہے، لیکن بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے۔ جب بچہ زبان سیکھنے کے قابل بن جاتا ہے تو اس کو کلمات سکھائے جاتے ہیں جس کے متعلق وہ کچھ نہیں جانتا کہ یہ ہے کیا ہے۔ 5 سال کی عمر میں سفید ٹوپی اس کے انتظار میں ہوتی ہےاور مولوی کے پاس بھیج دیا جاتا ہے اور اس کو مولویوں کے بنائے ہوئے خودساختہ واقعات کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ 6 سال کے بعد نماز سکھانے کا مرحلہ ہوتا ہے یعنی بچہ نہ چاہتے ہوئے اور نہ جانتے ہوئے بھی اندھی تقلید کے مرحلے سے گزرتا ہے۔ کیا یہ انسانی مذہبی آزادی کے خلاف نہیں؟ اگر یہ سب مذہبی آزادی کے خلاف نہیں تو پھر مذہبی آزادی کا اسلام میں حقیقی مفہوم کیا ہے؟ راہنمائی فرمائیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اسلام دینِ فطرت ہے اورفطرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے مقصدِ تخلیق کو پہچانے اور اپنے اندر انسانیت کا جوہر پیدا کرے، ان چیزوں کا حصول اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے ہی ممکن ہے۔ ہم مسلمانوں کا اپنے بچوں کو دینی عقائد اور اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانا انتہائی معقول عمل ہے جو فطرت اور انسانیت کے عین مطابق ہے، اور یہ عوامل انسان کو اپنی تخلیق کے مقصد سے آگاہ کرتے ہیں۔اگر مسلمان بچوں کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرنا اور ان پر عمل درآمد کرانا مذہبی آزادی کے منافی ہے تو پھر یہ کام تو ہر مذہب اور دین کے پیروکار کرتے ہیں، پھر آخر کیا وجہ ہے کہ اس معاملے میں اسلام ہی کو مَوردِ الزام کیوں ٹھہرایا جاتا ہے ؟مذہبی آزادی کا صحیح مفہوم یہ ہےکہ دینِ اسلام قبول کرنے پر کسی انسان کو قطعاً مجبور نہ کیا جائے اور کسی پر ذہنی ، جسمانی یا نفسیاتی دباؤ ڈال کر زبردستی اسلام میں داخل کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ اس لیے کہ عقیدہ کا تعلق دل کے ساتھ ہے اور دل پر زبردستی کرنا ممکن نہیں۔ اس بارے میں شریعتِ مطہَّرہ کی واضح ہدایات موجود ہیں کہ اسلام میں داخلے کے لیے جبر کیے بغیر دعوت کا راستہ اختیار کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے متعلق قرآنِ کریم میں جابجا موجود ہے کہ ان کے ذمہ فقط پیغامِ حق پہنچا دینا تھا، باقی کسی کو دینِ حق قبول کرنے پر مجبور کرنا ان کے منصبِ رسالت میں شامل نہ تھا۔ اسی طرح مذہبی آزادی میں یہ بھی داخل ہے کہ غیر مسلم اقلّیتوں کی عبادت گاہوں کو پامال نہ کیا جائے اور ان کی عبادات اور رسومات کی ادائیگی میں رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔مذہبی آزادی سے یہ مراد لینا کہ اپنی نسل اور چھوٹے بچوں کو بچپن میں اسلامی عقائد اور دینی احکامات کی تعلیم نہ دی جائے اور انہیں بالغ ہونے تک ان چیزوں سے بالکل لاعلم رکھا جائے تاکہ بالغ ہونے کے بعد وہ اپنی مرضی سے جس دین اور مذہب کو پسند کریں اسی کی تعلیمات کو اپنا لیں تو مذہبی آزادی کا یہ مفہوم مراد لینے کا صاف مطلب یہی ہے کہ اپنی نسل کو بالغ ہونے تک مکمل طور پر لامذہب رکھا جائے، تو یہ بات عقل ، نقل اور فطرت کے سراسر خلاف ہے۔اسی طرح مذہبی آزادی سے یہ مراد لینا کہ انسان کو مَن مانی کرنے اور ہرمَن پسند کام کرنے کی مکمل آزادی دی جائے اور اس کے کسی عمل میں رکاوٹ پیدا نہ کی جائے تو اس مفہوم کا حاصل یہ ہو گا کہ معاشرے سے انسانی تہذیب ، اسلامی اَقدار، خاندانی شرافت اور مذہبی غیرت و حمیّت کو ختم کر دیا جائے اور اس کے مقابل معاشرے میں بے حجابی، بے حیائی ، عریانی اور فحاشی کو فروغ دیا جائے۔ اس لیے مذہبی آزادی کا یہ مفہوم مراد لینا بھی غیر معقول اور باطل ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved