• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

زیرِ ناف بالوں کی حد کیا ہے؟

استفتاء

بعض لوگ ناف سے متصل بال صاف کرنے کا کہتے ہیں اور بعض لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ناف سے نیچے جہاں پیٹ کی حد ختم ہوتی ہے وہاں سے بال صاف کرنا چاہیے۔ آپ رہنمائی کیجیے کہ زیرِ ناف بال جن کو صاف کرنے کا شرعاً حکم ہے، ان کی حد کیا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

زیرِ ناف بالوں کی ابتداء ناف سے متصل نہیں ہے، بلکہ ناف سے نیچے مثانہ کے قریب پیڑو کی ہڈی سے اس کی حد شروع ہوتی ہے، مرد و عورت دونوں کے لیے اس جگہ سے لے کر دونوں شرم گاہوں کے اوپر نیچے، ارد گرد تمام بالوں کو صاف کرنا ضروری ہے۔علامہ ابنِ عابدین شامی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:“والعانة الشعر القريب من فرج الرجل والمرأة ومثلها شعر الدبر بل هو أولى بالإزالة لئلا يتعلق به شيء من الخارج عند الاستنجاء بالحجر”(حاشیہ ابن عابدین ،فصل فی الاحرام، ج:2ص:481)
ترجمہ:اور “عانہ” سے مراد مرد اور عورت کی شرم گاہ کے بال ہیں ۔ اور اسی حکم میں بڑے پیشاب کی جگہ کے بال ہیں، بلکہ اس جگہ کے بالوں کو صاف کرنا زیادہ ضروری ہے ، تا کہ پتھر(یامٹی کے ڈھیلا) کے ساتھ استنجاء کرنے کی صورت میں نجاست ان بالوں سے لگ کر رہ نہ جائے۔نوٹ:زیرِ ناف بالوں کی شرعی حد بندی اوپر بیان کر دی ہے۔ لیکن اگر کسی بندہ کی ناف سے متصل بال صاف کرنے کی عادت ہوتو ہر باران اضافی بالوں کو بھی صاف کرتا رہے،کیوں کہ زیرِ ناف بالوں کوصاف کرنے کی غرض خود کو طہارت و نظافت سے آراستہ کرنا ہے۔ اگر مکمل بال صاف نہ ہوئے تو یہ مقصد حاصل نہ ہو گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved