- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کیا نماز میں سجدے کی تسبیحات طاق عدد میں پڑھنا ضروری ہیں یا پھر جفت عدد میں بھی پڑھ سکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
سجدے کی تسبیحات تین مرتبہ پڑھنا مسنون ہے۔ تین سے کم مرتبہ پڑھنے سے سنت ادا نہیں ہو گی بلکہ ایسا کرنا مکروہ ہو گا اور بقول علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی رحمہ اللہ یہ کراہت ؛ کراہت تنزیہی سے کچھ زائد لیکن کراہتِ تحریمی سے کم ہو گی۔ تین مرتبہ سے زائد پڑھنا اور طاق عدد کی رعایت رکھنا مستحب ہے۔ تین مرتبہ سے زائد لیکن جفت عدد میں تسبیحات پڑھنے سے سنت تو ادا ہو جائے گی لیکن استحباب کا درجہ حاصل نہ ہو گا۔
علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی الحنفی رحمہ اللہ (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
وَصَرَّحُوا بِأَنَّهُ يُكْرَهُ أَنْ يُنْقِصَ عَنِ الثَّلَاثِ وَأَنَّ الزِّيَادَةَ مُسْتَحَبَّةٌ بَعْدَ أَنْ يَخْتِمَ عَلٰى وِتْرٍ ؛خَمْسٍ أَوْ سَبْعٍ أَوْ تِسْعٍ.(رد المحتار مع الدر المختار: ج1 ص494 مطلب فی اطالۃ الرکوع)ترجمہ: فقہاء نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ تین مرتبہ سے کم تسبیحات پڑھنا مکروہ ہے اور تین سے زیادہ مستحب ہے جب کہ طاق عدد پر ختم کرے یعنی پانچ، سات یا نَو بار پڑھے۔
علامہ شامی رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں:
ٳِنَّ كَرَاهَةَ تَرْكِهَا فَوْقَ التَّنْزِيهِ وَتَحْتَ الْمَكْرُوهِ تَحْرِيمًا .(رد المحتار مع الدر المختار: ج1 ص495 مطلب فی اطالۃ الرکوع)ترجمہ: تین مرتبہ سے کم تسبیحات پڑھنا مکروہ ہے اور یہ کراہت ؛ کراہتِ تنزیہی سے کچھ زائد لیکن کراہتِ تحریمی سے کم ہو گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved