• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا درست طریقہ

استفتاء

میں نے پوچھنا یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ اپنی جائیداد اپنی زندگی ہی میں تقسیم کرنا چاہے تو کیا شرعاً اس کی اجازت ہے؟ اگر ایسا کرنا جائز ہے تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر کوئی بندہ اپنی خوشی سے اپنی زندگی ہی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد کو تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً ایسا کرنا جائز ہے، لیکن اس کو وراثت نہیں کہا جاتا بلکہ یہ ہدیہ، عطیہ، تحفہ یا گفٹ کہلاتا ہے ۔زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا صحیح طریقہ حسبِ ذیل ہے:
1 سب سے پہلے اپنی ذاتی ضروریات کےلیے حسبِ ضرورت مال بچا کر رکھ لے تاکہ آئندہ محتاجی نہ ہو۔2 اپنی اہلیہ (اگر حیات ہوتو) کے لیے کچھ مال الگ کر لے، بہتریہ ہے کہ اس کو آٹھواں حصہ دے دے، تاکہ اسے پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔3 اس کے بعد باقی مال اپنی تمام اولاد کے درمیان بیٹوں اور بیٹیوںمیں فرق کیے بغیر برابر تقسیم کیا جائے، یہ افضل اور بہتر صورت ہے۔ ہاں اگر وراثت کی تقسیم کے مطابق بیٹوں کو دوہرا(ڈبل) اور بیٹیوں کو اِکہرا(سنگل) حصہ دیا جائے تو یہ بھی جائز ہے۔4 بِلا وجہ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ نہ دے۔ اگر کوئی معقول وجہ ہو مثلاً: اولاد میں سے کوئی نادار، مفلس، مستحق، غریب یا معذور ہو، یا فرماں برداری ، خدمت گاری، دین داری اور شرافت کسی میں زیادہ ہو اور اس بنیاد پر اس کو کچھ زیادہ مال دیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے، بشرطیکہ دیگر اولاد کونقصان اور ضرر پہنچانا مقصود نہ ہو۔5 مال تقسیم کرنے کے بعد باقاعدہ طور پر ہر ایک کے قبضہ میں اس کا حصہ دے دیا جائے تاکہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرّف کر سکے۔ جائیداد صرف نام کرا دینے سے ہبہ تام نہیں ہو گا، ہاں اگر اولاد میں سے کوئی ناسمجھ یا نابالغ ہو تواس کے سمجھ دار اور بالغ ہونے تک والد اپنے قبضے میں اس کا حصہ رکھ سکتا ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved