• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مدرسے کے سفیر کی تنخواہ یا کمیشن کا حکم

استفتاء

1: مدرسہ کا چندہ کرنے والے دو سفیروں کو جو کہ اکٹھے گھوم کر چندہ وصول کرتے ہوں دونوں کو ساڑھے تین سو ، ساڑھے تین سو کے اعتبار سے بطورِ مزدوری دینا کیسا ہے؟2: اور اگر یہ طے کر لیا جائے کہ جتنا چندہ ہو گا اس کے تین حصے مدرسہ کے ہوں گے اور ایک حصہ سفیر کا ہو گا۔ تو کیا یہ طریقہ درست ہے؟براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1: مدرسہ کے سفیر کی حیثیت اجیر کی ہے۔ اجارہ کے صحیح ہونے کے لئے اجیر کے کام اور تنخواہ کا متعین ہونا ضروری ہے۔ اس لیے سوال میں ذکر کردہ ان دو سفیروں کا کام اور اجرت متعین ہے تو اس طرح ان کو اجرت دینا درست ہے۔2: اس صورت میں سفیر کے چندے سے اس کی اجرت مقرر کی جا رہی ہے۔ لہذا یہ صورت نا جائز ہے۔ کیونکہ جو چیز اجیر کے عمل سے حاصل ہوتی ہے اس میں سے اجرت مقرر کرنا شرعا جائز نہیں ہوتا۔ جائز صورت شقِ اول میں ذکر کی گئی ہے کہ سفیر کا کام اور تنخواہ متعین کر دی جائے تو شرعاً درست ہو گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved