- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
[۳]: عمرو کی بیوی اب اپنے خاوند کے پاس نہیں رہنا چاہتی بلکہ وہ زید کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ اس کے لیے وہ اپنے شوہر سے طلاق مانگتی ہے لیکن اس کا شوہر اسے طلاق نہیں دیتا۔ اب اس بنیاد پر یہ عورت عدالت میں جائے اور خلع کی درخواست دائر کرے۔ جج اس کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کر دے تو کیا یہ خلع شرعاً معتبر ہو گا؟ نیز اس صورت میں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ عمرو کی بیوی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ میرا شوہر اولاد کے قابل نہیں ہے۔ کیا یہ دعویٰ فسخِ نکاح کا سبب بن سکتا ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب یہ ہیں:
[۱]: عمرو کی بیوی کے ہاں جو بچہ پیدا ہوا ہے وہ عمرو ہی کی اولاد شمار ہو گا کیونکہ عمرو اس بچے کا انکار نہیں کر رہا۔ شریعت کا قاعدہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی منکوحہ زنا کرے اور اس کے ہاں بچہ پیدا ہو تو وہ شوہر ہی کی طرف منسوب ہو گا ، زانی سے اس کا نسب ثابت نہیں ہو گا الّا یہ کہ شوہر خود ہی اس بچے کا انکار کر دے تو اب یہ بچہ خاوند کا شمار نہیں ہو گا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ.”صحیح البخاری، رقم الحدیث2053، صحیح مسلم، رقم الحدیث 1457ترجمہ: بچہ صاحبِ فراش (یعنی خاوند) کا ہوتا ہے اور زانی کی سزا پتھر ہیں۔یہی روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔صحیح مسلم، رقم الحدیث 1457امام ابو الحسن علی بن ابی بكر بن عبد الجلیل المرغیانی (ت593ھ) لکھتے ہیں:
وإن جاءت به لستة أشهر فصاعدا يثبت نسبه اعترف به الزوج أو سكت لأن الفراش قائم.الہدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی: ج2 ص282 کتاب الطلاق. باب ثبوت النسبترجمہ: اگر عورت کے ہاں نکاح کے بعد چھ ماہ میں یا اس سے زائد وقت میں بچہ پیدا ہوا تو اگر خاوند اس بچے کا اعتراف کرتا ہے یا خاموش رہتا ہے تو بچہ کا نسب خاوند سے ثابت ہو جائے گا۔[۲]: زنا سے حقوق اللہ پامال ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کی معافی کے لئے صدقِ دل سے بارگاہِ الٰہی میں توبہ کرنا کافی ہے، مزنیہ کے شوہر سے معافی مانگنا ضروری نہیں۔[۳]: خلع کے شرعاً معتبر ہونے کے لئے خاوند کی رضا مندی ضروری ہے۔ اگر خاوند خلع دینے پر رضامند نہ ہو تو اسے اپنی بیوی کو علیحدہ کرنے پر مجبور کرنا شرعاً جائز نہیں۔ اس لیے یکطرفہ عدالتی خلع سے نکاح ختم نہیں ہوتا۔ہاں بعض احوال وعیوب ایسے ہیں کہ اگر وہ شوہر میں پائے جائیں، بیوی گواہوں کے ذریعے انہیں ثابت بھی کر دے اور ان کی تلافی ممکن نہ ہو تو قاضی کو تفریق کا حق حاصل ہوتا ہے۔ وہ احوال وعیوب یہ ہیں:
1: شوہر نا مرد ہو۔2: شوہر مفقود ہو (یعنی بالکل لاپتہ ہو گیا ہو)3: شوہر متعنت ہو (یعنی بیوی کا نان و نفقہ نہ دیتا ہو)4: شوہر مجنون ہو(یعنی بالکل پاگل ہو گیا ہو)5: شوہر غائب غیر مفقود ہو (یعنی شوہر لاپتہ نہیں ہوا لیکن ایسا غائب ہو گیا ہے کہ نہ بیوی کو لے جا کر اپنے گھر بساتا ہے، نہ نان و نفقہ دیتا ہے اور نہ ہی حاضر ہو کر بیوی کے حقوق ادا کرتا ہے)عمرو کی بیوی کا زید سے نکاح کی خواہش کرنا ایسی وجہ نہیں جس سے فسخِ نکاح شرعاً معتبر ہو۔ اس لیے اس بنیاد پر دعویٰ دائر کرنا بھی جائز نہیں اور اگر جج اس بنیاد پر فسخِ نکاح کا فیصلہ جاری کر دیتا ہے تو یہ فیصلہ بھی معتبر نہیں۔ البتہ شوہر کا نامرد ہونا فسخِ نکاح میں معتبر ہو سکتا ہے لیکن اس کی کچھ اہم شرائط ہیں:
ان شرائط کی تفصیل ”حیلہ ناجزہ“ از حضرت تھانوی رحمہ اللہ (ص47 تا 49) میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
• نکاح سے پہلے عورت کو شوہر کے عِنِّین (بالکل نا مرد) ہونے کا علم نہ ہو۔ اگر اسے علم تھا اس کے باوجود اس نے نکاح کیا ہے تو اب اس کو تفریق کا حق نہیں۔• نکاح کے بعد شوہر نے ایک بار بھی ہمبستری نہیں کی۔ اگر ایک بار بھی ہم بستر ہو گیا تو اب عورت کو تفریق کا حق نہیں۔• عورت کو جب سے خاوند کے عِنِّین ہونے کا پتا چلا ہے اس وقت سے عورت نے خاوند کے ساتھ رہنے کی تصریح نہ کی ہو مثلاً یہ نہ کہا ہو کہ خاوند جیسا بھی ہے اب تو میں اس کے ساتھ زندگی بسر کروں گی۔ تو اگر وہ صراحتاً ایسا کہہ چکی ہے تو اس کا حقِ تفریق ختم ہو گیا اور اگر اس نے یہ صراحت نہیں کی بلکہ خاموش رہی (بلکہ تقبیل و مضاجعت وغیرہ افعال بھی موجبِ رضا نہیں۔ از حضرت تھانوی رحمہ اللہ) تو حقِ تفریق اب بھی باقی رہے گا۔اس لئے زوجہ عمرو کو چاہیے کہ اگر مذکورہ شرائط پائی جاتی ہوں تو وہ عدالت میں دعویٰ دائر کرے۔ جج ؛ عمرو کو ایک سال کی مہلت دے گا کہ اپنا علاج کروائے۔ ایک سال بعد اگر وہ بیوی کے قابل ہوا تو ٹھیک ورنہ جج زوجۂ عمرو کو فسخِ نکاح کا اختیار دے گا۔ اگر وہ نکاح فسخ کرنا قبول کرے تو جج فسخِ نکاح کی ڈگری جاری کر دے گا۔ اس کے بعد زوجۂ عمرو عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔بطورِ مشورہ بہتر صورت یہی ہے کہ اگر فسخِ نکاح کی شرعی وجوہات نہیں پائی جا رہیں اور زوجۂ عمرو کسی صورت میں اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو اسے چاہیے کہ حق مہر معاف کر کے یا کچھ روپیہ پیسہ دے کر خاوند کو طلاق دینے پر آمادہ کر کے چھٹکارا حاصل کر لے۔ نیز عمرو کو بھی دیکھنا چاہیے کہ چونکہ نوبت اس حد تک پہنچ چکی ہے، عورت خوفِ خدا کا پاس نہیں رکھ رہی اور اس پر خواہشات کا غلبہ ہے تو بہتر یہی ہے کہ طلاق دے کر بیوی کو الگ کر دے۔ اس طرح شوہر عنداللہ اجر کا مستحق ہو گا اور عورت بھی مزید گناہ سے بچ جائے گی۔
علامہ علاء الدین ابو بكر بن مسعود الکاسانی الحنفی (ت587ھ) لکھتے ہیں:
وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول.بدائع الصنائع للکاسانی: ج3 ص145 کتاب الطلاق فصل وأما الذي يرجع إلى المرأةترجمہ: خلع کے رکن ایجاب و قبول ہیں۔ کیونکہ اس کی حقیقت عوض (مال) کے بدلے طلاق دینا ہے اس لیے اگر ایک فریق اسے قبول نہ کرے تو نہ ہی فرقت ہو گی نہ ہی خاوند عوض (مال) کا مستحق قرار پائے گا۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
إذا رفعت المرأة زوجها إلى القاضي وادعت أنه عنين وطلبت الفرقة فإن القاضي يسأله هل وصل إليها أو لم يصل فإن أقر أنه لم يصل أجله سنة…. جاءت المرأة إلى القاضي بعد مضي الأجل وادعت أنه لم يصل إليها…. إن اختارت الفرقة أمر القاضي أن يطلقها طلقة بائنة فإن أبى فرق بينهما.الفتاوی الہندیۃ: ج1 ص522 تا 524ترجمہ: اگر عورت اپنے خاوند کو قاضی کے پاس لے کر گئی اور یہ دعویٰ کیا کہ یہ نامرد ہے اس لیے مجھے اس سے چھٹکارا دلا دیں۔ تو قاضی مرد سے پوچھے گا کہ کیا تم نے اپنی بیوی سے ہمبستری کی ہے یا نہیں؟ اگر وہ قرار کرے کہ میں نے ہمبستری نہیں کی تو قاضی اسے ایک سال کی مہلت دے گا (کہ وہ اپنا علاج کروائے) عورت اس مدت کے گزرنے کے بعد پھر قاضی صاحب کے پاس آئی اور دعویٰ کیا کہ یہ میرے ساتھ ہمبستر نہیں ہوا۔ (تو عورت کے دعویٰ کے سچا ثابت ہونے کے بعد) اگر وہ خاوند سے جدا ہونا چاہے تو قاضی ؛ خاوند کو کہے گا کہ اس کو ایک طلاق بائن دے دے۔ اگر خاوند طلاق نہ دے تو قاضی خود ان کے درمیان تفریق کر دے گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved