• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

سجدہ سہو واجب ہونے کے مواقع کون کون سے ہیں؟

استفتاء

مجھے یہ پوچھنا ہے کہ ہے سجدہ سہو سے کیا مراد ہےاور نماز میں کون کون سی چیزیں ایسی ہیں کہ جن کے چھوٹ جانے پر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔ اگر آپ اس بارے میں تفصیل کے ساتھ درج فرما دیں کہ جس میں سجدہ سہو کا طریقہ اور اس کے اصول و قواعد بھی آ جائیں تو نوازش ہو گی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

نماز میں کبھی بھول کر ایسی غلطی ہو جاتی ہے جس سے نماز ٹوٹتی تو نہیں البتہ اس کی وجہ سے نماز میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اس نقصان کے ازالہ کے لیے شریعت مبارکہ نے “سجدہ سہو” کی اجازت دی ہے۔ سجدہ سہو کرنے سے اس نقصان کی تلافی ہو جاتی ہے اور نماز کامل ہو جاتی ہے۔ذیل میں سجدہ سہو کے اصول و ضوابط درج کیے جاتے ہیں۔
سجدہ سہو واجب ہونے کے ضوابط:
پہلا ضابطہ:سَہْو کا معنی ہے بھول جانا۔ سجدہ سہو اسی صورت میں کرنا ضروری ہو گا جب نماز میں کوئی غلطی بھول چوک سے ہو گئی ہو۔ اگر کوئی غلطی عَمَداً یعنی جان بوجھ کر کی ہو تو سجدہ سہو کرنے سے نماز نہیں ہو گی بلکہ نماز دوبارہ پڑھنا ضروری ہو گا۔
دوسرا ضابطہ:سجدہ سہو کا تعلق صرف نماز کے فرائض اور واجبات سے ہے۔ نماز کی سنّتوں، مستحبات، مکروہات اور مفسدات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ مطلب یہ کہ اگر نماز کے فرئض اور واجبات میں کمی بیشی ہو جائے تب سجدہ سہو کا حکم ہو گا۔ نماز کی سنتیں یا مستحبات چھوٹ جائیں تو سجدہ سہو واجب نہ ہو گا۔
تیسرا ضابطہ:سجدہ سہو صرف فرض نماز کے ساتھ خاص نہیں ، بلکہ واجب نماز، سنتِ مؤکَّدہ، غیر مؤکَّدہ اور نفل نمازوں میں بھی اگر کوئی ایسی غلطی پائی جائے جس سے سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے تب بھی سجدہ سہو کرنا ضروری ہو گا۔
چوتھا ضابطہ:نمازوں میں درج ذیل اَغلاط میں سے کوئی بھی غلطی ہو جائے تو سجدۂِ سہو واجب ہو جاتا ہے۔
1: ترکِ واجب :2 تقدیمِ واجب:3 تاخیرِ واجب :4 تبدیلِ واجب:5 تکرارِ واجب :6 تقدیمِ رکن7: تاخیرِ رکن :8 تکرارِ رکن
وضاحت:(1) ترکِ واجباس کا مطلب ہے کوئی واجب چھوٹ جائے۔مثال:پہلی ، دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھنا بھول جائے ، اسی طرح جلسہ یا قومہ چھوٹ جائے تو سجدۂِ سہو واجب ہو گا۔ (2) تقدیمِ واجباس کا مطلب ہے کسی واجب کو اس کے اصلی وقت سے پہلے ادا کر لیا جائے۔مثال:سورۃ فاتحہ سے پہلے دوسری سورۃ پڑھ لی جائے تو سجدۂِ سہو واجب ہو گا۔(3) تاخیرِ واجباس کا مطلب یہ ہے کہ کسی واجب کو اس کے اصلی وقت سے تاخیر کے ساتھ ادا کیا جائے۔مثال:سورۃ فاتحہ کو قیام کے بجائے رکوع میں پڑھ لیا تو سجدۂِ سہو واجب ہو گا۔(4) تبدیلِ واجباس کا مطلب ہے کسی ایک واجب کو کسی دوسرے واجب سے بدل دیا جائے۔

مثال:ظہر یا عصر کی نماز میں بھول کر تین یا زیادہ آیات بلند آواز سے یا فجر، مغرب اور عشاء کی نماز میں تین یا زیادہ آیات آہستہ آواز میں تلاوت کر لیں تو سجدۂِ سہو واجب ہو گا۔
فائدہ:اس صورت میں سجدۂ سہو صرف امام کے ساتھ خاص ہے۔ تنہا نماز پڑھنے والا مرد اور اسی طرح خاتون اگر جَہری نمازوں (جن میں بلند آواز سے تلاوت کی جاتی ہے) میں آہستہ آواز سے یا سِرّی نمازوں (جن میں آہستہ آواز سے تلاوت کی جاتی ہے) میں بلند آواز سے تلاوت کر لے تو اس پر سجدۂِ سہو واجب نہ ہو گا۔
(5) تکرارِ واجباس کا مطلب یہ ہے کہ کسی واجب کو ایک سے زائد مرتبہ ادا کر لیا جائے۔مثال:بھول کر ایک سے زیادہ مرتبہ سورۃ فاتحہ یا التَّحِیَّات پڑھ لی جائے تو سجدۂِ سہو واجب ہو گا۔(6) تقدیمِ رکناس کا مطلب ہے کسی رکن کو اس کے اصلی وقت سے پہلے ادا کر لیا جائے۔مثال:بھول کر رکوع کرنے کے بجائے سجدے کر لیے تو سجدۂِ سہو واجب ہو گا۔ کیوں کہ سجدوں کا اصل مقام یہ ہے کہ انہیں رکوع کے بعد کیا جائے مگر اس صورت میں اصل وقت سے پہلے ادا کیے گئے۔(7) تاخیرِ رکناس کا مطلب یہ ہے کہ کسی فرض کو اس کے اصلی وقت سے مؤخر کر کے ادا کیا جائے۔مثال :1بھول کر پہلے سجدے کر لیے پھر رکوع کیا تو سجدۂِ سہو واجب ہو گا۔ کیوں کہ رکوع کا اصل مقام یہ ہے کہ اسے سجدوں سے پہلے کیا جائے مگر اس صورت میں اصل وقت کے بعد ادا کیا گیا۔ مثال 2 : ایک سجدہ کر کے قعدہ میں بیٹھ جائے، تَشَہُّد پڑھ لے یا ساتھ درودِ پاک بھی پڑھ لے، سلام سے پہلے یاد آئے دوسرا سجدہ باقی ہے تو فوراً سجدہ کرے ۔ اب تاخیرِ رکن کی وجہ سے سجدۂِ سہو واجب ہو گا۔(7) تکرارِ رکناس کا مطلب یہ ہے کہ کسی رکن کو اس کی مقررہ حد سے زائد مرتبہ ادا کیا جائے۔مثال:بھول کر دو رکوع یا تین سجدے کر لیے تو اب تکرارِ رکن کی وجہ سے سجدۂِ سہو واجب ہو گا۔فائدہ:ترکِ رکن کی وجہ سے سجد ۂِ سہو واجب نہیں ہوتا کیوں کہ کسی بھی رکن کے چھوٹ جانے سے سرے سے نماز ہی نہیں ہوتی۔ اس صورت میں دوبارہ نماز ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔پانچواں ضابطہ:نماز میں کوئی چیز بھول کر چھوٹ جائے تو اس کی حیثیت کو دیکھا جائے کہ وہ فرض ہے، واجب ہے یا سنت ہے۔« اگر فرض چھوٹ جائے تو دیکھا جائے کہ اسی نماز کے اندر اس کی قضا ممکن ہے یا نہیں؟ اگر قضا ممکن ہو تو وہ فرض ادا کر لے اور تاخیرِ رکن کی وجہ سے آخر میں سجدہ کر لے۔ اگر قضا ممکن نہ ہو تو سرے سے نماز ہی باطل ہو جائے گی، سجدہ سہو سے اس کا ازالہ نہ ہو گا۔ مثال:آخری قعدہ میں یاد آئے کہ رکوع نہیں کیا، اب چونکہ نماز کے اندر اس کی قضا ممکن ہے، لہٰذا اٹھ کر رکوع کرے، پھر تاخیرِ رکن کی وجہ سے آخر میں سجدہ کر لے۔اگر سلام پھیرنے کے بعد یاد آئے کہ رکوع نہیں کیا تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی، دوبارہ پڑھنا لازم ہو گا۔ کیوں کہ اس صورت میں قضا ممکن نہیں ، سجدہ سہو سے ازالہ نہیں ہو سکے گا۔« اگر واجب چھوٹ جائے تو دیکھا جائے کہ جان بوجھ کر چھوڑا ہے یا بھول کر، اگر جان بوجھ کر چھوڑا ہو تو اس صورت میں نماز کا اِعادہ ضروری ہے۔ اگر بھول کر چھوڑا ہو تو سجدۂ سہو کرنے سے نماز ہو جائے گی۔« اگر چھوٹ جانے والی چیز سنت ہو تو اس کی وجہ سے نہ تو نماز باطل ہوتی ہے نہ ہی سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے، ہاں البتہ ثواب میں کمی ہو جاتی ہے۔چھٹا ضابطہ: اگر امام پر سجدۂ سہو واجب ہو جائے تو مقتدیوں پر بھی واجب ہو گا، کیوں کہ مقتدی ہر فعل میں امام کے تابع ہوتے ہیں۔ اگر کسی مقتدی سے ایسی غلطی ہو جائے جس سے سجدۂ سہو واجب ہوجاتا ہے تو اس کی وجہ سے امام پر سجدۂ سہو واجب نہیں ہو گا اور اس امام کے تابع ہونے کی وجہ سے خود اس مقتدی پر بھی واجب نہیں ہو گا۔ساتواں ضابطہ:اگر ایک ہی نماز میں کئی ایسی غلطیاں ہو جائیں کہ ہر ہر غلطی سے الگ الگ سجدۂ سہو واجب ہوتا ہو تو اس صورت میں ان سب کی طرف سے ایک ہی سجدۂ سہو کافی ہوجائے گا، خواہ دوبارہ ہونے والی غلطی سجدۂ سہو کے بعد بھی ہو۔ کیوں کہ تکبیرِ تحریمہ کے بعد سلام پھیرنے تک ایک ہی نماز شمار ہوتی ہے اور ایک نماز کی مختلف غلطیوں کی طرف سے ایک سجدۂ سہو کافی ہو جاتا ہے۔سجدۂ سہو کرنے کا طریقہ:
سجدۂ سہو کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آخری قعدہ میں صرف التّحیَّات پڑھ کر دائیں طرف سلام پھیر کر دو سجدے کر یں، پھر بیٹھ کرا لتّحیَّات، درودِ پاک اور دعا پڑھ کر دونوں طرف سلام پھیر دیں۔ واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved