- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک شخص ہے جس نے اپنا نکاح خود پڑھایا اور کہا: فلاں لڑکی سے نکاح کرتا ہوں اس آدمی کےگواہ وہاں موجود ہیں، لیکن وہاں لڑکی کی جانب سے نہ کوئی گواہ موجود ہے نہ اس کا سرپرست اور نہ خود لڑکی اس مجلس میں موجود ہے نہ اس نے اپنا کوئی وکیل متعین کیا۔یہ نکاح واٹس ایپ پر ویڈیو کال کے ذریعے انجام پایا، تو کیا یہ نکاح درست ہوا یا زنا ہوا؟پانچ ہزار روپے متعین مہر کی ادائیگی کے بغیر ہی طلاق دے دی۔ اور طلاق کے بعد بھی مہر کی ادائیگی کے لئے تیار نہیں ہے۔ براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی کیجیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ بات تو یقینی ہے کہ عاقلہ بالغہ لڑکی کی اجازت اور رضامندی کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوتا، اسی طرح دو عاقل بالغ مسلمان گواہوں کے بغیر بھی نکاح نہیں ہوتا۔ لیکن سوال میں ذکر کردہ صورت میں یہ تفصیل ہے کہ جو بندہ اپنا نکاح کرنے والا تھا ، اگر لڑکی نے اسے اپنا وکیل بھی بنا دیا تھا، کہ تم خود ہی میرے وکیل بن کر اپنا نکاح مجھ سے کر لو، اور اس نے دو عاقل بالغ مسلمان گواہوں کی موجودگی میں یہ نکاح کر لیا تو اس طرح شرعاً یہ نکاح منعقد ہو گیا، کیوں کہ نکاح میں ایک شخص اپنی طرف سے اصیل اور دوسرے کی طرف سے وکیل بن سکتا ہے۔لہٰذا اس صورت میں حق مہر کی ادائیگی شوہر پر لازم ہو گی، نہ دینے پر شرعاً گناہ گار ہو گا۔ اگر لڑکی نے اسے اپنا وکیل نہیں بنایا تھا تو سرے سے نکاح ہی منعقد نہیں ہوا، اس لیے حق مہر بھی واجب الاداء نہ ہوا۔لیکن واضح رہے کہ کسی لڑکی کا اپنے سرپرست یا ولی کی اجازت اور رضامندی کے بغیر از خود چپکے سے نکاح کرلینا یا کسی کو اپنے نکاح کا وکیل بنا دینا شریعت میں پسندیدہ نہیں ، اور یہ اقدام خاندانی شرافت کے بھی منافی ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved