- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ اگر مقتدیوں میں سے کسی کو اقامت کہنا نہ آتا ہو تو امام خود اقامت کہہ سکتا ہے؟اسی طرح موجودہ حالات میں بہت سے لوگ تراویح اور نماز گھر میں پڑھا رہے ہیں جن میں سے بہت سارے لوگ پینٹ شرٹ والے ہیں تو کیا پینٹ شرٹ پہن کر امامت کروانا درست ہوگا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
: اقامت کہنااذان دینے والے کا ہی حق ہے ۔ ہاں اگرمؤذن کی اجازت سے اقامت کہے تو کوئی حرج نہیں ۔اسی طرح اگر مقتدیوں میں سے کسی کو اقامت نہ آتی ہو تو ایسی صورت کی اگر امام خود کہہ دے تو ایسی صورت میں بلاکراہت درست ہے۔اسی طرح اگر مقتدیوں کو اقامت آتی ہو اور اس کے باوجود امام اقامت کہہ دے تو اس کی امام کا خود ہی اقامت کہنا شرعاً درست ہے۔ لہٰذا امام خود بھی اقامت کہہ سکتا ہے۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے:وان کان المؤذن والامام واحد فان اقام فی المسجد فالقوم لایقومون مالم یفرغ من الاقامۃ۔ (فتاوی ہندیہ ۔کتاب الصلاۃ ،ج1ص57)ترجمہ: اگر امام اور موذن ایک ہی ہو تو اگر وہ اقامت کہے تو مقتدی اس وقت کھڑے ہوں جب وہ اقامت سے فارغ ہو جائے۔2: پینٹ پہننا یہ صلحاء کا لباس نہیں لہذا ایسی صورت میں اگر عذر کی بنا پر پینٹ پہننے والی کی اقتداء میں نماز ادا کر لی جائے تو درست ہے البتہ مستقل امامت کی صورت کی نماز مکروہ ہو گی کیونکہ یہ غیر صلحاء کا لباس ہے ۔اور اس کو پہن کر نماز پڑھنا بھی مشکل ہوتا ہے اس کے چست ہونے کی وجہ سے ۔لہذا اس فریضہ کو ادا کرنے کے لیے صلحاء کا لباس اپنانا چاہیے۔
يَا بَنِي آدَمَ خُذُواْ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّكُلُواْ وَاشْرَبُواْ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ.الْأَعْرَاف: 31
اے اولادِ آدم! تم ہر نماز کے وقت عمدہ لباس پہنا کرو ۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved