• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

چالیس دن سے زائد کے زیر ناف بال صاف نہ کرنے پر نماز کی کراہت کا حکم

استفتاء

عرض یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے چالیس دن کے بعد بھی موئے زیر ناف یا موئے بغل صاف نہیں کیے تو اس کا یہ عمل مکروہ تحریمی ہو گا یہ بات تو طے شدہ ہے، اب معلوم یہ کرنا ہےکہ کیا اس کی نماز بھی مکروہ ہو گی؟ بعض حضرات مکروہ قرار دیتے ہیں اور بطورِ دلیل شامی کی یہ عبارت پیش کرتے ہیں:“وکرہ ترکہ ای تحریماً لقول المجتبیٰ” (شامی: ج9ص583)حالانکہ اس عبارت میں علامہ شامی علیہ الرحمۃ نےاس فعل کو مکروہ قرار دیا ہے (یعنی چالیس دن سے زائد دنوں میں بالوں کا صاف نہ کرنا) نہ کہ نماز کو!اس بارے میں شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ صحیح کیا ہے؟ اگر مکروہ ہے تو مکروہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟ نیز یہ بھی بتلائیں کہ اگر مکروہ ہے تو تنزیہی ہے یا تحریمی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

[۱]: چالیس دنوں سے زائد کے زیرِ ناف بال صاف نہ کرنے کی صورت میں کراہت صلوٰۃ کی وجہ عدمِ طہارت و نظافت ہے جبکہ نماز کی من جملہ شرائط و آداب میں طہارت بدن بھی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ زیرِ ناف بال صاف نہ کرنے کی صورت میں تلویثِ نجاست کا خطرہ زیادہ رہتا ہے جو طہارتِ بدن کے منافی ہے۔ اسی وجہ سے نماز مکروہ قرار پاتی ہے۔
علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی  الحنفی(ت1088ھ) لکھتے ہیں:
﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ﴾  فَبَدَنُهُ وَمَكَانُهُ أَوْلٰى. 
(الدر المختار مع رد المحتار: ج3 ص342)
ترجمہ: ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”اپنے کپڑے پاک رکھیے“ اس سے بدن اور نماز کی جگہ کا پاک ہونا بدرجہ اولیٰ ضروری ثابت ہوتا ہے۔
[۲]: اس صورت میں نماز مکروہ ہوتی ہے۔  جن حضرات نے کراہت کا قول کیا ہے تو انہوں نے مطلق مکروہ لکھا ہے۔ مثلاً  فقیہ الامت مفتی محمود حسن گنگوہی (ت 1416 ھ) لکھتے ہیں:
”ایسے شخص کی نماز بھی مکروہ ہوتی ہے۔ “
(فتاویٰ محمودیہ: ج19 ص449)
مطلق مکروہ سے مراد عموماً کراہتِ تحریمی ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود کسی نے اس وجہ سے اعادۂ صلوٰۃ کا حکم نہیں لکھا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved