• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

اپریل فول کی شرعی حیثیت

استفتاء

آج کل یکم اپریل کے دن کو ’’اپریل فول‘‘ کے نام سے منایا جاتا ہے، جس میں لوگ مذاق کے طور پر جھوٹی خبریں پھیلاتے، دوسروں کو دھوکہ دیتے اور انہیں وقتی پریشانی میں مبتلا کرکے اسے تفریح سمجھتے ہیں۔ بعض لوگ اسے محض ہنسی مذاق اور بے ضرر رسم قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ اس کی تاریخی و مذہبی حیثیت پر بھی گفتگو کرتے ہیں۔ شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں اس دن کو منانے، جھوٹ بولنے یا کسی کو دھوکہ دینے کی کیا حیثیت ہے؟ نیز کیا مسلمانوں کے لیے ایسی رسم میں شرکت درست ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

شریعتِ اسلامیہ میں اپریل فول منانا جائز نہیں، کیونکہ اس کی بنیاد متعدد شرعی قباحتوں پر قائم ہے۔اوّل یہ کہ اس رسم میں عام طور پر جھوٹ بولنا اور دھوکہ دینا بنیادی عنصر ہوتا ہے، جبکہ اسلام نے جھوٹ کو سختی سے ممنوع قرار دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ … وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ”(صحیح مسلم: 2607)
ترجمہ: سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور جھوٹ گناہ کی طرف۔بلکہ جھوٹ کو نفاق کی علامت بھی قرار دیا گیا ہے:“آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ… إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ”(صحیح البخاری: 33)
دوم یہ کہ اس موقع پر بسا اوقات کسی کی عزت، شہرت یا جذبات کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، حالانکہ اسلام نے مسلمانوں کی جان، مال اور آبرو کو انتہائی محترم قرار دیا ہے:
“إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ”(صحیح البخاری: 1739)
سوم یہ کہ ایسی رسومات غیر مسلم معاشروں سے ماخوذ ہیں، اور بلا ضرورت ان کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے:“مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ”(سنن ابی داؤد: 4033)
تاریخی اعتبار سے بھی بعض مؤرخین نے اس دن کو مسلمانوں کے ساتھ فریب اور ظلم کے واقعات سے جوڑا ہے، جس سے اس رسم کی نامناسب نوعیت مزید واضح ہوتی ہے، اگرچہ اصل حکم کا مدار تاریخی روایت پر نہیں بلکہ مذکورہ شرعی قباحتوں پر ہے۔لہٰذا جھوٹ، ایذا رسانی اور غیر اسلامی تہذیبی مشابہت پر مشتمل ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے اپریل فول منانا یا اس میں شریک ہونا درست نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved