استفتاء
کیا جہنم بھی جنت کی طرح ابدی اور ہمیشہ باقی رہے گی؟ یا اس کی کوئی انتہا ہے؟حال ہی میں میری نظر ایک ایسی کتاب پر پڑی، جس میں مصنف نے یہ عنوان قائم کیا:کیا دوزخ کی کوئی انتہا ہے؟اس عنوان کے تحت انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں چند دلائل پیش کیے، جن سے یہ موقف ظاہر ہوتا ہے کہ جہنم ہمیشہ باقی نہیں رہے گی، بلکہ ایک وقت ایسا آئے گا جب وہ فنا ہو جائے گی۔ ان کے پیش کردہ دلائل یہ ہیں:1: النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِدِیْنَ فِیْهَا إِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ إنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ (الانعام: 128)2: وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ (الاعراف: 156)3: خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ (ھود: 107)4: كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهٗ ۔ (القصص: 88)5: كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍ یَبْقىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمٰن: 26،27)6: لٰبِثِیْنَ فِیْهَا اَحْقَابًا (النّبا: 23)7: إِنَّ رَحْمَتِی تَغْلِبُ غَضَبِیْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2751)
ان کے پیش کردہ تمام دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا، جب جہنم بالکل خالی ہو جائے گی اور وہاں کوئی متنفس باقی نہ رہے گا۔ یہ روایات حضرت ابوہریرہ، حضرت ابن مسعود، حضرت جابر رضی اللہ عنہم وغیرہم سے منقول ہیں۔جبکہ ہم تو ہمیشہ علماء کرام سے یہی سنتے آئے ہیں کہ جنت اور جہنم دونوں ابدی ہیں، اور ان کا وجود ہمیشہ کے لیے باقی رہے گا۔لہٰذا، گزارش ہے کہ اس مسئلے پر اہل السنت والجماعت کا واضح موقف دلائل کی روشنی میں بیان فرمایا جائے، تاکہ نہ صرف مجھے قلبی سکون حاصل ہو، بلکہ اُمتِ مسلمہ بھی اس اہم مسئلے میں واضح فہم حاصل کر کے کسی شبہے میں مبتلا نہ رہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی اس علمی کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جمہور اہل السنۃ والجماعۃ کا اجماعی اور متفق علیہ موقف یہی ہے کہ کفار و مشرکین ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، اور ان کے عذاب کا کبھی خاتمہ نہیں ہوگا۔
البتہ وہ گناہگار مسلمان جو ضروریاتِ دین کے قائل ہوں، مگر زندگی میں کبیرہ گناہوں میں مبتلا ہوئے اور بغیر توبہ کے دنیا سے چلے گئے تو وہ جہنم میں اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد حکمِ الٰہی اور شفاعتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے بالآخر جنت میں داخل کر دیے جائیں گے۔
لہٰذا ”خاتمۂ عذاب“ کا حکم صرف موحّد گناہ گاروں کے لیے ہے، کفار و مشرکین کے لیے نہیں۔ ان کا عذاب ہمیشہ ہمیشہ جاری رہے گااور وہ کبھی جہنم سے نجات نہیں پائیں گے۔ اس پر چند دلائل پیشِ خدمت ہیں:
دلائل جمہور اہل السنۃ والجماعۃ:
[1]: إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَـٰئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِيْنَ خَالِدِيْنَ فِيْهَا، لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ
البقرہ: 161-162
ترجمہ: یقیناً جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور کفر کی حالت ہی میں مرے، ان پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔ وہ ہمیشہ اسی پھٹکار میں رہیں گے، نہ ان پر سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔
[2]: إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوْا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيْھِمْ نَارًا، كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُم بَدَّلْنَاهُمْ جُلُوْدًا غَيْرَهَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ، إِنَّ اللّٰہَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيْمًا
النساء: 56
ترجمہ: یقیناً جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا، ہم انہیں آگ میں داخل کریں گے۔ جب بھی ان کی کھالیں جل کر گل جائیں گی، ہم ان کی جگہ نئی کھالیں دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں۔ بے شک اللہ زبردست اور حکمت والا ہے۔
[3]: إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَظَلَمُوا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ، وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيقًا، إِلَّا طَرِيقَ جَهَنَّمَ، خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا، وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا
النساء: 168-169
ترجمہ: جنہوں نے کفر اور ظلم کیا، اللہ نہ ان کو معاف کرے گا اور نہ ہی راہِ ہدایت دکھائے گا، سوائے جہنم کے راستے کے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کے لیے بہت آسان بات ہے۔
[4]: يُرِيْدُوْنَ أَن يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنْهَا، وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيمٌ
المائدہ: 37
ترجمہ: وہ چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں، مگر وہ کبھی اس سے نکل نہ سکیں گے۔ اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے۔
[5]: إِنَّه مَن يُشْرِكْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ، وَمَأْوَاهُ النَّارُ، وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ
المائدہ: 72
ترجمہ: جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا، اس پر جنت حرام کر دی گئی، اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور ظالموں کے لیے کوئی یار و مددگار نہیں ہوگا۔
[6]: إِنَّ اللّٰہَ لَعَنَ الْكَافِرِينَ وَأَعَدَّ لَهُمْ سَعِيرًا، خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا، لَا يَجِدُونَ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا
الأحزاب: 64-65
ترجمہ: یقیناً اللہ نے کافروں کو رحمت سے دور کر دیا ہے اور ان کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ انہیں نہ کوئی حمایتی ملے گا اور نہ کوئی مددگار۔
[7]: وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ، لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا، وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا، كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ
فاطر: 36
ترجمہ: جنہوں نے کفر کیا، ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے۔ نہ ان کا کام تمام کیا جائے گا کہ مر ہی جائیں، اور نہ ہی ان سے عذاب میں کوئی کمی کی جائے گی۔ ہم ہر ناشکرے کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔
[8]: وَمَن يَعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ، خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا
الجن: 23
ترجمہ: جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے، اس کے لیے ہمیشہ ہمیشہ جہنم کی آگ ہے۔
[9]: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يُجَاءُ بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کأَنَّہٗ كَبْشٌ أَمْلَحُ، زَادَ أَبُو كُرَيْبٍ: فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَاتَّفَقَا فِي بَاقِي الْحَدِيثِ، فَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، هَلْ تَعْرِفُونَ هٰذَا؟ فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُوْنَ، وَيَقُوْلُوْنَ: نَعَمْ، هٰذَا الْمَوْتُ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ النَّارِ، هَلْ تَعْرِفُوْنَ هٰذَا؟ فَيَشْرَئِبُّوْنَ وَيَنْظُرُوْنَ، وَيَقُوْلُوْنَ: نَعَمْ، هٰذَا الْمَوْتُ، فَيُؤْمَرُ بِهٖ فَيُذْبَحُ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، خُلُوْدٌ فَلَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ، خُلُوْدٌ فَلَا مَوْتَ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ﴿وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ﴾،وَأَشَارَ بِيَدِهٖ إِلَى الدُّنْيَا۔
صحیح مسلم: 2849
ترجمہ: قیامت کے دن موت کو ایک سفید و سیاہ مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا۔ (روایت میں اضافہ ہے کہ) اسے جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا۔ پھر (فرشتے) اعلان کریں گے: اے جنت والو! کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ تو وہ گردنیں اٹھا کر دیکھیں گے اور کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے۔ پھر کہا جائے گا: اے دوزخ والو! کیا تم اسے پہچانتے ہو؟وہ بھی گردنیں اٹھا کر دیکھیں گے اور کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے۔پھر (حکمِ الٰہی سے) اس موت کو ذبح کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد اعلان ہوگا: اے جنت والو! ہمیشہ کی زندگی ہے، اب موت نہیں اور اے دوزخ والو! ہمیشہ کا عذاب ہے، اب موت نہیں۔
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
”اور انہیں حسرت کے دن سے ڈرائیے، جب فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ (دنیا میں) غفلت میں ہوں گے اور ایمان نہیں لائیں گے۔“اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے دنیا کی طرف اشارہ فرمایا (کہ اصل غفلت یہاں ہے)۔
جو لوگ جہنم کے فنا ہونے کے قائل ہیں ، ان کے دلائل کے جوابات حسبِ ذیل ہیں:
[1]: علامہ مرعی بن یوسف الحنبلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
إِنَّ الْمُرَادَ السَّمَاوَاتُ الْآخِرَةُ وَأَرْضُهَا، بِدَلِيلِ قَوْلِهٖ تَعَالٰی: ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ﴾ (إِبْرَاهِيمَ: ٤٨)، وَقَوْلِهٖ تَعَالٰی: ﴿وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ﴾ (الزُّمَرِ: ٧٤)، وَكِلَاهُمَا دَائِمَانِ، فَوَجَبَ أَنْ يَكُوْنَ خُلُوْدُهُمْ وَعَذَابُهُمْ دَائِمَيْنِ بِدَوَامِهِمَا.
توقيف الفريقين على خلود أهل الدارين، ص: 65
ترجمہ: درحقیقت مراد آخرت کے آسمان اور اس کی زمین ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ظاہر ہوتا ہے: جس دن زمین بدل دی جائے گی کسی دوسری زمین سے (ابراہیم: 48)،
اور اس فرمان سے بھی: اور ہمیں زمین کا وارث بنا دیا گیا تاکہ ہم جنت میں جہاں چاہیں ٹھکانا اختیار کریں (الزمر: 74)۔ اور چونکہ یہ دونوں (یعنی آخرت کی زمین اور آسمان) ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں، لہٰذا لازم ہوا کہ ان دونوں کے دوام کے ساتھ ان کے اندر رہنے والوں کا خلود (ہمیشہ رہنا) اور عذاب بھی ہمیشہ باقی رہے۔
[2]: علامہ مرعی بن یوسف الحنبلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
أَنَّهٗ تَعَالٰى خَاطَبَ العَرَبَ عَلَى مَا جَرٰى بِهٖ عُرْفُ التَّخَاطُبِ بَيْنَهُمْ، لِأَنَّ التَّأْبِيْدَ وَالخُلُودَ لَهٗ عِنْدَهُمْ أَلْفَاظٌ، كَقَوْلِهِمْ: هُوَ بَاقٍ مَا أَيْنَعَ الثَّمَرُ، وَأَوْرَقَ الشَّجَرُ، وَمَا دَجَى اللَّيْلُ، وَسَالَ سَائِلٌ، وَطَرَقَ طَارِقٌ، مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ۔
توقيف الفريقين على خلود أهل الدارين ، ص: 65
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے عربوں سے ان کے عرفِ تخاطب (گفتگو کے طریقے) کے مطابق خطاب فرمایا، کیونکہ ان کے ہاں ابدیّت اور ہمیشگی کے لیے کچھ خاص تعبیرات (الفاظ) رائج تھیں، جیسے ان کا یہ کہنا: “وہ باقی رہنے والا ہے جب تک پھل پکیں، درخت سرسبز ہوں، رات چھائی رہے، پانی بہتا رہے، رات کو آنے والا مہمان آئے اور جب تک آسمان و زمین قائم رہیں۔
[3]: علامہ مرعی بن یوسف الحنبلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
لِابْنِ قُتَيْبَةَ، وَابْنِ الأَنْبَارِيِّ، وَالفُقَهَاءِ كُلِّهِمْ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَالأَوْزَاعِيِّ: إِنَّ هٰذَا اسْتِثْنَاءٌ اسْتَثْنَاهُ اللهُ تَعَالٰى، وَلَا نَعْقِلُهُ البَتَّةَ، فَعَلٰى هَذَا فَهُوَ مِنَ المُتَشَابِهِ۔
توقيف الفريقين على خلود أهل الدارين ، ص: 66
ترجمہ: امام ابن قتیبہ، امام ابن انباری، اور تمام فقہاء جیسے امام شافعی، امام احمد، امام اسحاق اور امام اوزاعی رحمہم اللہ کے نزدیک یہ (آیت میں) استثناء ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے،لیکن ہم اس کی حقیقت کو مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر ہیں۔ لہٰذا یہ ان امور میں سے ہے جو متشابہ (یعنی ایسی بات جس کی حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے) ہیں۔
[4]: علامہ مرعی بن یوسف الحنبلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
إِنَّه لَيْسَ بِاسْتِثْنَاءِ، وَإِنَّمَا إِلَّا بِمَعْنٰى: سِوٰى، كَمَا تَقُوْلُ: لِيْ عَلَيْكَ أَلْفُ دِرْهَمٍ إِلَّا الأَلْفَيْنِ الَّتِي لِيْ عَلَيْكَ، أَيْ: سِوَى الأَلْفَيْنِ، وَالمَعْنٰى: خَالِدِيْنَ فِيْهَا قَدْرَ مُدَّةِ دَوَامِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ فِي الدُّنْيَا، سِوٰى مَا شَاءَ رَبُّكَ مِنَ الزِّيَادَةِ عَلَيْهَا مِمَّا لَا مُنْتَهٰى لَهٗ.
توقيف الفريقين على خلود أهل الدارين ، ص: 66
ترجمہ: یہ (آیت میں) استثناء نہیں ہے، بلکہ ”إلا“ کا معنی ہے: سوائے، جیسے تم کہو: “میرے تم پر ایک ہزار درہم ہیں، سوائے اُن دو ہزار کے جو تم پر میرے پہلے سے واجب ہیں، یعنی دو ہزار اس کے علاوہ ہیں۔
پس مطلب یہ ہے: وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے اتنی مدت تک جتنی مدت آسمان و زمین دنیا میں قائم رہیں گے، سوائے اس اضافی مدت کے جسے آپ کا رب چاہے گا، جو اتنی ہوگی کہ اس کی کوئی انتہا نہیں۔
[5]: علامہ مرعی بن یوسف الحنبلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
إِنَّ الِاسْتِثْنَاءَ رَاجِعٌ إِلَى خُرُوْجِ أَهْلِ التَّوْحِيْدِ مِنَ النَّارِ، وَهُوَ الظَّاهِرُ مِنْ هٰذِهِ الْأَقْوَالِ، وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَتَادَةَ، وَجَمَاعَةٍ، وَمَالَ إِلَيْهِ الإِمَامُ فَخْرُ الدِّيْنِ الرَّازِيُّ رَحِمَهُ اللّٰہُ.
توقيف الفريقين على خلود أهل الدارين ، ص: 67
ترجمہ: بلاشبہ یہ استثناء (إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ) اہلِ ایمان کے دوزخ سے نکلنے کے بارے میں ہے، اور یہی ان اقوال کا ظاہر مفہوم ہے۔ یہی قول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ، امام قتادہ رحمہ اللہ اور ایک جماعت کا ہے، اور امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ کا رجحان بھی اسی جانب ہے۔
[6]: علامہ جلال الدین عبد الرحمٰن بن ابی بکر السیوطی الشافعی رحمہ اللہ (ت911ھ) فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ آٹھ چیزیں اور بھی ہیں جو فنا نہیں ہوں گی؛ جنت، جہنم، عرش، کرسی، عجب الذنب (ریڑھ کی ہڈی)، ارواح، لوح اور قلم۔ ان آٹھ کو انہوں نے ایک شعر میں جمع کیا ہے۔
چنانچہ شیخ علامہ محمد امین بن عبد الله الأُرَمِيّ العَلَوِيّ الهَرَرِيّ الشافعی رحمہ اللہ (ت1441ھ / 2019ء) علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے یہ شعر نقل کرتے ہیں:
ثَمَانِيَةٌ حُكْمُ الْبَقَاءِ يَعُمُّهَا
هِيَ الْعَرْشُ وَالْكُرْسِيُّ وَنَارٌ وَجَنَّةٌ
مِنَ الْخَلْقِ وَالْبَاقُوْنَ فِيْ حَيِّزِ الْعَدَمْ
وَعَجْبٌ وَأَرْوَاحٌ كَذَا اللَّوْحُ وَالْقَلَمْ
تفسیر حدائق الرَّوح والرَّیحان: ج21 ص316 تحت قولہ تعالیٰ كُلُّ شَيْءٍ ہَالِكٌ اِلَّا وَجْہَہٗ سورۃ القصص: 88
ترجمہ: آٹھ چیزیں باقی رہیں گی ان کے علاوہ باقی تمام مخلوق فنا ہو جائے گی۔ وہ آٹھ چیزیں یہ ہیں: عرش، کرسی، جہنم، جنت، ریڑھ کی ہڈی، ارواح، لوح اور قلم۔
[7]: امام محمد بن اسماعیل الامیر الصنعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
عِندَ أَهْلِ السُّنَّةِ فَالْأَمْرُ وَاضِحٌ فِيْ أَنَّ الأَثَرَ لَيْسَ إِلَّا خُرُوْجَ الْمُوَحِّدِيْنَ، وَلَفْظُ أَثَرِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ وَإِنْ كَانَ عَامًّا، فَإِنَّهٗ نَكِرَةٌ فِي سِيَاقِ النَّفْيِ، إِلَّا أَنَّهٗ مَعْلُوْمٌ تَخْصِيْصُهٗ بِالأَدِلَّةِ الدَّالَّةِ عَلٰى أَنَّ الْكُفَّارَ لَيْسُوْا مِنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ، فَلَا يَصِحُّ نِسْبَةُ الْقَوْلِ بِفَنَاءِ النَّارِ وَذَهَابِهَا إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهُمَا.
رفع الأستار لإبطال أدلّة القائلين بفناء النار، ص: 75-76
ترجمہ: اہل السنت کے نزدیک معاملہ بالکل واضح ہے کہ اس اثر[لَيَأْتِيَنَّ عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَيْسَ فِيهَا أَحَدٌ، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا يَلْبَثُونَ فِيهَا أَحْقَابًا]سے صرف اہلِ توحید کا جہنم سے نکلنا مراد ہے۔ اگرچہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کا لفظ بظاہر عام ہے، مگر وہ نفی کے سیاق میں نکرہ ہے، اور یہ بات معلوم و مسلّم ہے کہ یہ عام مفہوم ان دلائل کی بنا پر مخصوص ہے جو اس پر دلالت کرتے ہیں کہ کفار جہنم سے ہرگز نہیں نکالے جائیں گے۔ لہٰذا حضرت ابنِ مسعود اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی طرف جہنم کے فنا اور عذاب کے انقطاع کی نسبت کرنا درست نہیں ہے۔
[8]: مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ (ت1396ھ) لکھتے ہیں:
جہنم کے خلود اور دوام پر اشکال و جواب:
حِقبہ کی مقدار کتنی بھی طویل سے طویل قرار دی جائے بہر حال وہ متناہی اور محدود ہے۔ اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اس مدتِ طویلہ کے بعد کفار اہلِ جہنم بھی جہنم سے نکل جاوینگے ۔ حالانکہ یہ قرآن مجید کی دوسری واضح نصوص کے خلاف ہے جن میں ”خالدین فیھا أبدا “کے الفاظ آئے ہیں اور اسی لئےاُمت کا اس پر اجماع ہے کہ نہ جہنم کبھی فنا ہو گی ، نہ کفار کبھی اس سے نکالے جائیں گے ۔
سُدّی نے حضرت مُرّہ بن عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ کفا ر اہلِ جہنم کو اگر یہ خبر دی جائے کہ اُن کا قیام جہنم میں دنیا بھر میں جتنی کنکریاں تھیں انکی برابر ہوگا تو وہ اس پر بھی خوش ہوں گے کہ بالآخر یہ کنکریاں اربوں کھربوں کی تعداد میں سہی پھر بھی محدود اور متناہی تو ہیں، بہرحال کبھی نہ کبھی اس عذاب سے چھٹکارا ہو جائے گا اور اگر اہلِ جنت کو یہی خبر دی جائے کہ ان کا قیام جنت میں دنیا بھر کی کنکریوں کے عدد کے مطابق سالوں رہیگا تو وہ غمگین ہونگے کہ کتنی ہی مدت دراز سہی مگر بہر حال اس مدت کے بعد جنت سے نکالدئیے جاوینگے (مظہری)
بہر حال اس آیت میں اَحْقَابًا کے لفظ سے جو یہ مفہوم ہوتا ہے کہ چند احقاب کے بعد کفار اہلِ جہنم بھی جہنم سے نکال لئے جاویں گے، تمام نصوص اور اجماعِ امت کیخلاف ہونے کی بنا پر یہ مفہوم معتبر نہیں ہوگاکیونکہ اس آیت میں اس کی تصریح تو ہے نہیں کہ احقاب کے بعد کیا ہو گا صرف اتنا ذکر ہے مدت احقاب ان کو جہنم میں رہنا پڑیگا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ احقاب کے بعد جہنم نہیں رہے گا یا یہ لوگ اُس سے نکال لئےجاویں گے۔ اسی لئے حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ اس آیت میں حق تعالیٰ نے اہل جہنم کے لئے جہنم کی کوئی میعاد اور مدت مقرر نہیں فرمائی جس کے بعد اُن کا اس سے نکل جانا سمجھا جائے بلکہ مراد یہ ہے کہ جب ایک حقبہ زمانے کا گزر جائیگا تو دوسرا شروع ہو جائیگا، اسی طرح دوسرے کے بعد تیسرا چوتھا یہاں تک کہ ابدالآبادیہی سلسلہ رہے گا، اور سعید بن جبیر نے قتادہ سے بھی یہی تفسیر روایت کی ہے کہ احقاب سے مراد وہ زمانہ ہے جسکا انقطاع اور انتہا نہیں بلکہ ایک حقب ختم ہوگا تو دوسرا حقب آجائیگا اور یہی سلسلہ ابد تک رہیگا (ابن کثیرومظہری)۔
اور یہاں ایک دوسرا احتمال اور بھی ہے جس کو ابن کثیر نے یحتمل کے لفظ سے بیان کیا ہے اور قرطبی نےفرمایا کہ یہ بات بھی ممکن ہے اور مظہری نے اسی کو اختیار کیا ہے وہ احتمال یہ ہے کہ اس آیت میں لفظ طاغین سےمراد کفار نہ لئے جاویں بلکہ وہ اہلِ توحید جو عقائد باطلہ کے سبب اسلام کے گمراہ فرقوں میں شمار ہوتے ہیں جن کومحدثین کی اصطلاح میں ”اہلِ اَہواء“ کہا جاتا ہے وہ مراد ہوں تو آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ ایسے اہل توحید کلمہ گو جو عقائد باطلہ رکھنے کے سبب کفر کی حدود تک پہنچے ہوئے تھے مگر صریح کافرنہ تھے وہ مدت احقاب جہنم میں رہنے کے بعد بالآخر کلمہ توحید کی بدولت جہنم سے نکال لئے جاویں گے۔
معارف القرآن: ج 8 ص656
[9]: شیخ سلیمان بن ناصر العلوان کا مؤقف:
لَمْ يَثْبُتِ الْقَوْلُ بِفَنَاءِ النَّارِ عَنْ أَحَدٍ مِّنَ الصَّحَابَةِ، أَمَّا هٰذَا الإِلْزَامُ فَهُوَ بَاطِلٌ.
(تنبيه المحتار على عدم صحة القول بفناء النار عن الصحابة الأخيار: ص:13)
ترجمہ: دوزخ کے فنا ہونے کا عقیدہ کسی بھی صحابیؓ سے ثابت نہیں، باقی (ان میں سے کسی پر )یہ الزام سراسر باطل ہے۔
[10]: امام حسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی رحمہ اللہ (ت510ھ) لکھتے ہیں:
وَمَعْنَاهُ عِندَ أَهْلِ السُّنَّةِ إِنْ ثَبَتَ: أَنْ لَّا يَبْقٰى فِيْهَا أَحَدٌ مِّنْ أَهْلِ الإِيْمَانِ، وَأَمَّا مَوَاضِعُ الْكُفَّارِ فَمُمْتَلِئَةٌ أَبَدًا.
تفسير البغوی: ج2، ص403
ترجمہ: اور اگر یہ روایت [کہ جہنم میں ایک وقت ایسا آئے گا کہ کوئی باقی نہ ہوگا]ثابت بھی ہو، تو اہل السنت کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ جہنم میں اہلِ ایمان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا،جبکہ کفار کے ٹھکانے ہمیشہ ہمیشہ بھرے رہیں گے۔
[11]: جہنم کی ابدیت ؛ رحمتِ الٰہی کی سبقت اور غلبہ کے منافی نہیں:
اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دائرہ بے حد و حساب ہے، جیسا کہ فرمایا گیا: ”ورحمتي وسعت كل شيء“۔ اسی طرح حدیث مبارک میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”إن رحمتي غلبت غضبي“۔ اب اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر شے کو محیط ہے اور غضب پر سبقت رکھتی ہے تو پھر جہنم کا ہمیشہ باقی رہنا کس طرح سمجھا جائے؟ کیا جہنم کا ہمیشہ باقی رہنا رحمتِ خدا کی وسعت ، سبقت اور غلبہ کے منافی نہیں؟ اس بارے میں چند بنیادی باتیں سمجھ لی جائیں تو یہ اشکال ختم ہو جائے گا۔
1: صفتِ رحمت کی حقیقت:
رحمت کی سبقت اور وسعت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمت اصل اور غالب ہے۔ اس کا فیض سب مخلوقات تک دنیا میں بھی پہنچتا ہے اور آخرت میں بھی نمایاں طور پر جلوہ گر ہوگا۔
2: صفتِ غضب کی حقیقت:
غضب اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے جو اُس کے عدل اور حکمت کے تقاضے کے مطابق مخصوص مواقع پر ظاہر ہوتی ہے۔ یہ صفت ہر حال میں غالب نہیں ہوتی، بلکہ مخصوص مواقع اور مخصوص بندوں کے حق میں ظاہرہوتی ہے۔ اس لیے اللہ کا غضب ، سراسر عدل، حکمت اور مصلحت پر مبنی ہوتا ہے۔
3: صفتِ عدل اور بقائے جہنم:
اللہ تعالیٰ کی صفتِ عدل، درحقیقت اُس کی صفتِ رحمت کے کمال کا ایک لازم حصہ ہے، کیونکہ کامل رحمت وہی ہوتی ہے جو عدل کے ساتھ ہو۔ جہنم، اللہ تعالیٰ کے عدل، جلال اور عظمت کا مظہر ہے، جو اس بات کی متقاضی ہے کہ ہر ظالم، مجرم اور حق سے رُوگردانی کرنے والا اپنے انجام کو پہنچے۔
اگر عدل کا نظام نہ ہو تو رحمت کا توازن بھی باقی نہیں رہتا۔ لہٰذا جہنم کا باقی رہنا عدلِ الٰہی کا تقاضا ہے، جو کسی طور پر رحمتِ الٰہی کے منافی نہیں۔
4: شفاعت اور رحمت کا ظہور:
رحمت کی سبقت کا سب سے بڑا ظہور شفاعت کی صورت میں ہو گا۔ اہل ِایمان میں سے مرتکبِ کبیرہ بھی شفاعت کے ذریعے جہنم سے نکالے جائیں گے۔ یوں جہنم کے باوجود رحمت کا غلبہ ہر جگہ نمایاں ہوگا۔
خلاصہ:
یوں سمجھنا چاہیے کہ جنت کا باقی رہنا اللہ تعالیٰ کی رحمت کا جمال ہے اور جہنم کا باقی رہنا اللہ تعالیٰ کے عدل کا جلال ہے۔ جلال اور جمال دونوں مل کر ربوبیت کے کمال کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس لیے جہنم کی ابدیت؛ رحمت کی وسعت اور سبقت کے منافی نہیں بلکہ اس کی تکمیل ہے۔
تمام دلائل کا اصولی جواب :
جو لوگ جہنم کے فنا ہوجانے کے قائل ہیں، ان کے تمام دلائل کا اصولی جواب درج ذیل ہے:
[1]: علامہ محمد امین بن محمد المختار بن عبدالقادرالشنقیطی (ت1325ھ) نے اپنی کتاب ”دفع إيهام الاضطراب عن آيات الكتاب “ میں اس مسئلے کو نہایت مؤثر انداز میں واضح فرمایا ہے۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ جہنم اور اہلِ جہنم کی ممکنہ صورتیں صرف پانچ ہو سکتی ہیں:
1: جہنم کی آگ ختم ہو جائے اور اہلِ جہنم عذاب سے بچ جائیں۔
2: آگ باقی رہے، لیکن جہنمی مر جائیں اور یوں عذاب سے نجات پا لیں۔
3: آگ باقی رہے، لیکن اہلِ جہنم کو وہاں سے نکال لیا جائے۔
4: آگ باقی رہے، لیکن عذاب میں تخفیف (کمی) کر دی جائے۔
5: آگ بھی باقی رہے اور جہنمی بھی ہمیشہ اسی عذاب میں مبتلا رہیں۔
قرآن کریم میں پہلی چاروں صورتوں کی صراحتاً نفی کی گئی ہے۔
پہلی صورت کی نفی:
كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا
الإسراء: 97
ترجمہ: جب بھی وہ (آگ) بجھنے لگے گی، ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔
دوسری صورت کی نفی:
لَا يُقْضٰی عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا
فاطر: 36
ترجمہ: نہ ان کا فیصلہ کر کے موت دی جائے گی۔
تیسری صورت کی نفی:
وَمَا هُمْ بِخَارِجِیْنَ مِنْهَا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ
المائدہ: 37
ترجمہ: وہ اس (جہنم) سے نکلنے والے نہیں، اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے۔
چوتھی صورت کی نفی:
وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا
فاطر: 36
ترجمہ: نہ ان سے اس کا عذاب ہلکا کیا جائے گا۔
نتیجتاً صرف آخری پانچویں صورت باقی رہ جاتی ہے جو کہ جمہور اہل السنۃ والجماعۃ کا موقف ہے۔
[2]: فنا کی دو قسمیں ہیں:
1: فنائے امکانی… یعنی ایک چیز کا فنا ہو سکنا
2: فنائے عملی… یعنی ایک چیز کا فنا ہو جانا۔
اللہ تعالیٰ کی ذات سے فنائے امکانی اور فنائے عملی دونوں کی نفی ہے۔ باقی جنت،جہنم وغیرہ کے لیے جو عدمِ فنا ثابت ہے،تو اس سے مراد فنائے عملی ہے یعنی عملاً یہ فنا تو نہیں ہوں گے،لیکن فنائے امکانی ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہیں تو فنا کر سکتے ہیں، لیکن فنا کریں گے نہیں۔
تنقیحات متکلم اسلام
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا