• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

جنات غیر محسوس ہیں

استفتاء

میرے دوست نے ایک لڑکی کے ساتھ نکاح کیا، شادی کے بعد اسے پتہ چلا کہ اس کی بیوی پہلے مکمل عورت نہ تھی بلکہ اس میں کچھ مردانہ علامات بھی پائی جاتی تھیں۔ انہوں نے اپنی بیوی سے ناراضی کا اظہار کیا کہ شادی سے پہلے یہ بات کیوں نہیں بتائی تھی، بیوی نے کہا کہ میں نے یہاں لندن میں ایک ماہر سرجن سے چیک اپ کرایا تھا تو اس نے کہا تھا کہ آپ میں اسی(80) فیصد” ہارمونز” زنانہ اور بیس(20) فیصدمردانہ ہیں۔ پھر اس سرجن نے آپریشن کے ذریعے میری مردانہ جنسی علامت کو ختم کردیا، اب میں مکمل طور پر ایک عورت ہوں، البتہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت مجھ میں نہیں ہے۔میرے دوست کو اس تمام تفصیل کا علم ہوا تو وہ بہت پریشان ہو گیا۔ اسے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تم دونوں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ضروری ہے، اب تمہارا یک ساتھ رہنا جائز نہیں۔ براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیز میں اس طرح ردّ و بدل کرنا کہ وہ چیز اپنی تخلیقی و فطری ہیئت اور وضع سے الگ ہو جائے، ایسا عمل کرنا حرام اور ناجائز ہے۔ لہٰذا آپریشن کے ذریعے جنس کو تبدیل کرانا بھی حرام اور ناجائز عمل ہے، اگر کوئی ایسا کرے گا تو سخت گناہ گار ہو گا۔اس پر صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرنا لازم ہو گا ۔جنس کی تبدیلی سے پہلے اور بعد میں نکاح کے جواز اور عدمِ جواز کی تفصیل حسبِ ذیل ہے۔(1) ایسا شخص جس میں مردانہ اور زنانہ دونوں طرح کی جنسی علامات ایک ساتھ موجود ہوں، تو اس کے ساتھ کسی مرد کا نکاح کرنا سراسر حرام اور ناجائز ہے۔ اسی طرح دونوں علامات کے حامل آدمی کے لیے بھی حرام اور ناجائز ہے کہ وہ کسی عورت کے ساتھ یا اپنے جیسے کسی مخلوط شخص کے ساتھ نکاح کرے۔ خواہ مردانہ و زنانہ دونوں علامات کا تناسب برابر ہو یا کم زیادہ ہو۔ مثلاً دونوں قسم کی علامات پچاس پچاس فیصد ہوں یا ایک علامت بیس فیصد اور دوسری اسّی فیصد ہو۔(2) آپریشن کے ذریعے یا از خود طبعی طور پر دونوں جنسی علامات میں سے کوئی ایک علامت مکمل طور پر ختم ہو جائے اور صرف ایک علامت مکمل طور پر باقی ہو، تو اس صورت میں اگر کوئی مکمل مرد بنا ہو تو کسی عورت کے ساتھ ، اگر مکمل عورت بنی ہو تو کسی مرد کے ساتھ اس کا نکاح جائز ہوگا۔(3) جنس تبدیل ہو جانے کے بعد اگر مکمل عورت بن چکی ہو (یعنی اس کا پوشیدہ عضو ویسا ہی بن چکا ہو جیسا ایک عورت کا پیدائشی طور پر ہوتا ہے) تو اس کے ساتھ نکاح کرنے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں ، خواہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت اس میں باقی ہو یا نہ ہو۔ کیوں کہ نکاح کے جواز کے لیے جنسِ مرد اور جنسِ عورت کا ہونا ضروری ہے۔ عورت کے اندر اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کا ہونا نکاح کے جواز کے لیے کوئی شرط نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک پیدائشی عورت بیماری یا کسی اور وجہ سے اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے تو بِلا تأمّل اس کے ساتھ نکاح جائز ہوتا ہے۔ ہاں البتہ اس صلاحیت سے محروم ہونا عورت میں نقص اور عیب شمار ہوتا ہے ،اس لیے اگر نکاح سے پہلے مرد کو اس بات کا علم ہو جائے تو اسے نکاح نہ کرنے کا، اور اگر نکاح کے بعد معلوم ہو تو اسے دوسری شادی کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔درج بالا تفصیل کی روشنی میں آپ کے دوست کا اپنی اہلیہ کے ساتھ کیا ہوا نکاح درست واقع ہوا تھا، کیوں کہ نکاح سے قبل آپریشن کےذریعے وہ مکمل طور پر عورت بن چکی تھی،باقی بعد میں اس بات کا معلوم ہونا کہ وہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے، اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ لہٰذا وہ پہلا نکاح برقرار ہے، اب علیحدگی کی ضرورت نہیں ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved