• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

بیوی کا دودھ پینے کا حکم

استفتاء

خاوند کے لیے اپنی بیوی کا دودھ پینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر کوئی خاوند اپنی بیوی کا دودھ پی لے تو کیا حکم ہے؟ اس سے نکاح پر کوئی فرق تو نہیں پڑے گا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1: بیوی کا دودھ پینا حرام اور ناجائز ہے۔2: اس سے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ دودھ پینے کی وجہ سے جو حرمت ثابت ہوتی ہے وہ مدت رضاعت میں ثابت ہوتی ہے۔ اس کے بعد بڑی عمر میں دودھ پینا حرام تو ہے لیکن اس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ اس لیے اگر خاوند نے دودھ پی لیا تو یہ گناہ ہے، اس کا کفارہ توبہ و استغفار کرنا ہے۔علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی الحنفی(ت1088ھ) لکھتے ہیں:مَصَّ رَجُلٌ ثَدْيَ زَوْجَتِهِ لَمْ تَحْرُمْ .(الدر المختار مع رد المحتار: ج3 ص211 باب الرضاع)ترجمہ:خاوند نے بیوی کا پستان چوسا اور دودھ پی لیا تو اس سے بیوی حرام نہیں ہوتی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved