• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

سات خوش نصیب کون ہیں جن کو عرش کا سایہ نصیب ہو گا؟

استفتاء

دریافت یہ کرنا ہے کہ وہ سات خوش نصیب افراد کون کون سے ہیں جن کو روزِ قیامت عرشِ اِلٰہی کا سایہ نصیب ہو گا؟ براہِ کرم آگاہ فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِيْ ظِلِّهٖ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهٗ ؛ الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِيْ عِبَادَةِ رَبِّهٖ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّيْ أَخَافُ اللهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ أَخْفٰى حَتّٰى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهٗ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهٗ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ.(صحیح البخاری: رقم الحدیث 660)
ترجمہ:سات قسم کے آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے (عرش) کے سائے میں جگہ عطا فرمائیں گے جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہو گا۔ پہلا انصاف کرنے والا حکمران، دوسرا وہ نوجو ان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہا ہو، تیسرا وہ آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا رہتا ہو، چوتھے ایسے دو شخص جو محض اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں، ان کے ملنے اور جدا ہونے کی بنیاد یہی محبتِ الٰہی ہو، پانچواں وہ شخص جس کو کسی باعزت اور حسین و جمیل عورت نے (گناہ کی) دعوت دی تو اس نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں، چھٹا وہ آدمی جس نے اس قدر پوشیدہ طور پر صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوئی کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے اور ساتواں وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کے آنسو جاری ہو گئے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved