- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میرے گھر انکم ٹیکس کی ریٹ ہوئی تھی اس کے بعد سے میرے سی اے نے سختی کے ساتھ مشورہ دیا ہے کے میں کوئی بھی چیز بِنا بینک لون کے نہیں لے سکتا ۔ بہت مجبوری ہے اور مجبوری میں نا چاہتے ہوئے بھی لون لینا پڑتا ہے تو کیا ایسی مجبوری کی صورت میں کچھ پیسے فکس ڈپازٹ کر سکتا ہوں تاکہ اس سے ملنے والا سود میں ہر مہینہ بینک لون کے سود میں ادا کرتا رہوں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:“وَمَنْ يَتَّقِ اللہ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللہ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللہ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللہ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا”۔
(سورۃ الطلاق2،3)
ترجمہ:
” اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گااللہ اس کے لیےمشکل سےنکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا۔ اور اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں اسے گمان بھی نہیں ہو گا۔ اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے، تو اللہ اس (کا کام بنانے) کے لیے کافی ہے۔ یقین رکھو کہ اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے۔ (البتہ) اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے”۔مذکورہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں جینے کا اور زندگی کے تلخ اور مشکل حالات سے لڑنے کا ہنر سمجھایا اور سکھایا ہے، کہ حالات جس قدر بھی تنگ و تاریک ہوں اور ماحول جس قدر سنگین کیوں نہ ہو، جو بندہ ایسی سخت مشکلات میں ناجائز راستہ ترک کر کے جائز راستہ اختیار کرے گا تو میرا (اللہ تعالیٰ )وعدہ ہے کہ اس کی کشتی کو بھنور سے نکال کے بہ حفاطت ساحل پہ لگاؤں گا۔ اور ایسے انسان کو رزق ایسے ذرائع سے فراہم کروں گا کہ جس کا اسے تصور بھی نہ ہو گا۔آپ بھی اس وقت ایک دشوار صورتِ حال کا شکار ہیں، اس سے چھٹکارے کے لیے حرام در حرام میں خود کو نہ پھنسائیں بلکہ ضروری ہے کہ آپ مذکورہ آیات میں غور کریں، اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالیہ پہ بھروسہ رکھتے ہوئے کوئی جائز راستہ تلاش کریں۔ کسی رشتہ دار یا دوست وغیرہ سے امداد یا قرضِ حسنہ لے کر کام نکالیں۔ سودی معاملات سے حتّی الوسع اجتناب کیجیے، اگر بینک سے سودی معاملہ کر لیا تو سخت گناہ ہو گا، توبہ و استغفار لازم ہو گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved