- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک استاد اپنی شاگردہ سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ شرعاً نکاح کے تمام بنیادی تقاضے پورے ہو رہے ہیں اور کوئی حرمت یا ممانعت بھی موجود نہیں۔ سوال یہ ہے کہ صرف استاد اور شاگردہ کا تعلق ہونے کی وجہ سے کیا ایسا نکاح شرعاً درست ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرما دیں
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
محض استاد اور شاگردہ کا تعلق ہونا شرعاً نکاح کی ممانعت کا سبب نہیں بنتا۔ اگر نکاح کے تمام شرعی ارکان و شرائط پوری ہوں، فریقین کی رضامندی موجود ہو، اور سرپرست کی اجازت بھی حاصل ہو تو ایسا نکاح شرعاً درست ہے۔البتہ چند امور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:1: نکاح سے پہلے کسی قسم کا ناجائز یا خفیہ تعلق موجود نہ ہو۔2: یہ معاملہ بدنامی، فتنہ یا سوء ظن کا ذریعہ نہ بنے۔3: نکاح کا فیصلہ سنجیدگی، دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ کیا جائے۔ان شرائط کے ساتھ اگر نکاح کیا جائے تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں۔ واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved