- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
محترمی و مکرمی متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہعرض یہ ہے کہ ” اللہ حافظ ” اور ” خدا حافظ ” کہنے کی شرعی حیثیت کیا ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
عام طور پر یہ الفاظ کسی کو رخصت کرتے ہوئے کہے جاتے ہیں اور رخصت کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ سلام کرے اور دعا پڑھے: أَسْتَوْدِعُ اللَّہَ دِینَکَ وَأَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیمَ عَمَلِکَامام ابو عیسی محمد بن عیسی بن سورۃ ترمذی رحمہ اللہ (ت:279ھ)روایت نقل کرتے ہیں:عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَدَّعَ رَجُلًا أَخَذَ بِيَدِهِ فَلَا يَدَعُهَا حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ يَدَعُ يَدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ اسْتَوْدِعْ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَآخِرَ عَمَلِكَسنن ترمذی۔ رقم الحدیث3442
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم جب کسی شخص کو رخصت کرتے تو اس کا ہاتھ پکڑتے اور اس کا ہاتھ اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک کہ وہ شخص خود ہی آپ کا ہاتھ نہ چھوڑ دیتا اور آپ کہتے : «استودع اللہ دينک وأمانتک وآخر عملک»کہ میں تمہارے دین، تمہاری امانت اور آخری عمل (حسن خاتمہ) کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتا ہوں۔اس لیے روانگی کے وقت مسنون عمل کو اپنایا جائےیعنی پہلے سلام کریں، پھر یہ دعا پڑھیں۔ سلام اور دعا چھوڑکر صرف ”خدا حافظ“ یا ”اللہ حافظ“ کو اس کی جگہ پر استعمال کرنا خلافِ سنت ہے۔باقی اگر کوئی شخص سلام کے ساتھ ساتھ یہ الفاظ یا اس طرح کے دوسرے ہم معنی الفاظ بھی کہہ دے تو اس کی گنجائش ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved