• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مقارب الحدیث کا کیا مطلب ہے؟

استفتاء

بعض اوقات کسی راوی سے متعلق محدثین کرام “مقارب الحدیث” کا لفظ استعمال کرتے ہیں، اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

فنِ اسماء الرجال کے ماہرین ائمہ کرام حدیث کے راویوں کو پرکھنے کے لیے ان کے اَحوال و واقعات ، عادات و اَطوار، اَخلاق و کردار اور شب و روز کے معمولات و معاملات کا انتہائی باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیتے ہیں، اور نہایت دیانت داری کے ساتھ ہر ہر راوی کی خوبیوں اور خامیوں کے لحاظ سے ان کی صحت اور ضعف کو پرکھا جاتا ہے۔ اس عمل کو اصطلاح میں جرح و تعدیل کہا جاتا ہے۔جرح و تعدیل کے مختلف مراتب اور درجات ہیں۔ ” مقارب الحدیث” تعدیل کے چھ مراتب میں سے پانچواں مرتبہ شمار ہوتا ہے، اس میں لفظ مقارب کو (مقارِب اور مقارَب، راء پر زیر اور زبر) دونوں طرح پڑھنا درست ہے۔اگر “مقارَب الحدیث” پڑھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ دیگر رُوات کی حدیث اس راوی کی حدیث سے قریب ہے، اور “مقارِب الحدیث” پڑھا جائے تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ اس راوی کی حدیث دیگر ثقہ راویوں کی حدیث سے قریب تر ہے، یعنی اس میں کوئی شاذ یا منکَر روایت نہیں ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved