- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
تصویر اور ویڈیوز کی کس حد تک اجازت ہے؟ نیز کسی کی تصویر کو دیکھ کر ” ماشاء اللہ” کہنا کیسا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1) ڈیجیٹل کیمرے سے لی گئی تصویرکا جب تک پرنٹ نہ لیا گیا ہو یا اور اسے کسی چیز پر نقش نہ کیا گیا ہو اس وقت تک وہ تصویر محرَّم میں داخل نہیں بشرطیکہ اس تصویر یا ویڈیو میں نامحرم افراد نہ ہوں اور فحش مناظر نہ ہو ں ۔(2) ڈیجیٹل کیمرہ کی جس تصویر کی گنجائش دی گئی ہے اس سے مراد اس چیز کی تصویر ہے جس کو خارج میں بغیر تصویر کے دیکھنا بھی جائز ہےاور جس چیز کو خارج میں بغیر تصویر کے دیکھنا جائز نہیں اس کی تصویر یا ویڈیو بنانا بھی جائز نہیں ۔(3) ڈیجیٹل یا نان ڈیجیٹل کیمرہ سے نامحرم افراد کی تصویر لینا یا فحش اور ناجائز مناظر کی تصاویر محفوظ کرنا یا موسیقی کے ساتھ مناظر کو محفوظ کرنا اور دیکھنا شرعاً جائز نہیں ہے ۔(4) ڈیجیٹل کیمرہ سے بنائی گئی ایسی ویڈیوزجس میں جائز حدودمیں تفریحی مواد ہو اسے دیکھنے کی شرعاً گنجائش ہے ۔ لیکن جن ویڈیوز کے اندر نامحرم خواتین کی تصاویر ہوں یا موسیقی ہو یا فحش مناظر ہوں تو ایسی تفریحی ویڈیو ز دیکھنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
آج کل عام لوگ خصوصاً ہماری نوجوان نسل تصویر کشی کی بیماری میں خطرناک حد تک مبتلا ہے، فیس بک، یوٹیوب، واٹس ایپ، اور ٹک ٹاک پہ غیر ضروری تصاویر کی بہتات ہے۔ لوگ اپنی فضول حرکات اور لایعنی مشاغل کو تصویر اور ویڈیوز کی شکل میں اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔ بَسااوقات یہ تصاویر غیر ضروری ہونے کے ساتھ ساتھ غیر شرعی بھی ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ بات ملحوظ رکھیے کہ قدرتی مناظر یا کسی غیر جان دار کی تصویر کو دیکھ کر “ماشاء اللہ” کہہ سکتے ہیں، لیکن کسی جان دار کی تصویر کو دیکھ کر” ماشاء اللہ” نہ کہا جائے بلکہ اس کے بجائے “بہت خوب” بہت عمدہ” یا اس قسم کا کوئی جملہ کہہ دیا جائے۔ واللہ اعلم بالصوابدارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved