- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
معلوم یہ کرنا ہے کہ آج کل واٹس ایپ میں جو سٹیٹس لگاتے ہیں، پھر اس کو سب دیکھتے ہیں اور اگر کسی کو وہ سٹیٹس پسند آجائے تو اکثر لوگ بلا اجازت ہی اسے ڈاؤن لوڈ کرکے اپنے سٹیٹس پر بھی اس کو لگا لیتے ہیں۔ تو کیا اس طرح کسی کا سٹیٹس اس کی اجازت کے بغیر لگانا گناہ میں شامل ہو گا یا نہیں؟ راہنمائی فرما دیجیے۔ جزاکم اللہ خیراً۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
کسی بھی چیز کو سٹیٹس پر لگانے سے مقصد اس کی تشہیر کرنا ہوتا ہے ، اور عام طور یہی نیت ہوتی ہے کہ اس کا نفع عام اور فائدہ تام ہو۔ عموماً سٹیٹس لگانے سے ہر آدمی کے پیشِ نظر یہی بات ہوتی ہے کہ میری یہ اچھی بات ، اچھا قول ، اچھی تحریر یا میری یہ کارگزاری میرے رابطے میں موجود ہر شخص تک آسانی سے پہنچ جائے، اور ان سب کو اس پر عمل کرنے کا موقع میسر آئے۔ اس لیے عام طور پر کسی کا سٹیٹس کاپی(Copy) کرنا گناہ میں شامل نہیں۔ ہاں اگر کسی کے بارے میں علم ہو کہ وہ اپنے سٹیٹس کو کاپی(Copy) کر کے لگانے کو ناپسند سمجھتا ہے تو اس صورت میں اجازت لینا ضروری ہو گا۔ اسی طرح اگر کسی نے کوئی گناہ کی چیز (آڈیو، ویڈیو ، پکچر یا تحریر) سٹیٹس پر لگائی ہو تو اسے کاپی(Copy) کر نا جائز نہیں ہو گا۔
خلاصہ یہ ہے کہ اچھی چیز کو بلا اجازت کاپی(Copy) کر کے لگانے میں گناہ نہیں، ہاں اگر سٹیٹس والا ناپسند سمجھے تو اجازت ضروری ہے، اور گناہ کی چیز کو کاپی(Copy) کر کے لگانا جائز نہیں، خواہ اسکی طرف سے صراحتاً اجازت ہو۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved