• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

فرض نماز میں قرأت کرتے ہوئے سورتوں کی ترتیب کا حکم

استفتاء

ایک مسئلہ آپ سے پوچھنا ہے کہ اگر کوئی بندہ فرض نماز کی پہلی رکعت میں کوئی چھوٹی سورت اور دوسری رکعت میں بڑی سورہ تلاوت کرتا ہے اور ترتیب کا خیال بھی نہیں رکھتا یعنی ترتیب آگے پیچھے کرتا ہے کہ پہلی رکعت میں (ترتیبِ قرآنی کے اعتبار سے) بعد والی سورت پڑھتا ہے اور بعد میں پہلے والی سورت پڑھتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا اس سے نماز میں کوئی خرابی تو نہیں ہوتی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر نمازی نے پہلی رکعت میں چھوٹی سورت اور دوسری رکعت میں بڑی سورت کی تلاوت کی تو یہ مکروہ تنزیہی ہے ۔ ”بڑی“ ہونے کا معنیٰ یہ ہے کہ اگر دوسری رکعت والی سورت پہلی رکعت والی سورت سے تین یا زائد آیات کی مقدار بڑی ہو تب تو مکروہ ہے لیکن اگر ایک یا دو آیات کی مقدار بڑی ہو تو پھر مکروہ نہیں۔ واضح رہے کہ یہ کراہت صرف فرائض کے ساتھ خاص ہے، نوافل میں ایسا کرنا مکروہ نہیں۔[۲]: نماز میں سورتوں کی ترتیب قائم رکھنا کہ پہلی رکعت میں ترتیب قرآنی کے مطابق پہلے والی سورت پڑھی جائے اور دوسری رکعت میں بعد والی سورت پڑھی جائے تو یہ قرأت کے واجبات میں سے ہے۔ اگر کسی نے جان بوجھ کر فرض میں خلافِ ترتیب سورتیں پڑھیں تو یہ مکروہ تحریمی ہے۔ اگر بھول کر پڑھیں تو نماز بلا کراہت ادا ہو جائے گی۔نوٹ:
چونکہ فرائض میں یہ ترتیب قرأت کے واجبات میں سے ہے اس لیے اگر کسی نے جان بوجھ کر خلافِ ترتیب سورتیں پڑھیں تو اس سے سجدہ سہو واجب نہیں ہو گا کیونکہ سجدہ سہو نماز کے واجبات ترک کرنے سے لازم آتا ہے، نہ کہ قرأت کے واجبات ترک کرنے سے۔ ہاں اس سورت میں نماز کراہت کے ساتھ ادا ہو جائے گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved