- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
آج سبق میں حضرت نے فرمایا کہ رحیم اور کریم کے الفاظ غیر اللہ کے لیے بولے جا سکتے ہیں۔ تو کیا رحیم ، کریم میں ”عبد“ لگانا ضروری نہیں ہے؟ اگر کوئی نہ لگائے تو کیا اس نے خطا کی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
بندوں کے لیے لفظ رحیم اور کریم کے استعمال میں ”عبد“ لگانا ضروری نہیں ہے ۔ اس لیے کوئی نہ لگائے تو اسے خطا کار نہیں کہیں گے۔ قرآن کریم میں لفط ”رحیم“ کا اطلاق آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بغیر اضافت کے کیا گیا ہے۔﴿ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ ﴾(سورۃ التوبۃ: 128)ترجمہ:یقیناً تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے ہیں، جن پر تمہاری تکلیف بہت گراں گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کے بہت حریص ہیں، اور مومنوں کے لیے نہایت شفقت کرنے والے، مہربان ہیں۔”اسی طرح لفظ ”کریم“ کا اطلاق بھی غیر اللہ پر بغیر اضافت کے کیا گیا ہے۔﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ﴾(سورۃ الدخان: 44)ترجمہ: “اور بے شک ہم نے ان سے پہلے فرعون کی قوم کو آزمائش میں ڈالا، اور ان کے پاس ایک معزز رسول آئے۔”واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved