- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اگر جدہ میں مقیم لوگ طائف جائیں ، اور وہاں سے واپسی کے وقت مکہ سے ہوتے ہوئے آئیں اور مِنیٰ ،مزدلفہ کی زیارت کرکے آئیں ؟ تب ایسی صورت میں کیا دم دینا واجب ہو گا ؟ جب کہ وہ لوگ بغیر عمرہ کی نیت کے گھومنے کے لیے طائف گئے تھے اور واپسی میں مکہ مکرمہ کے مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کرکے واپس جدہ آ گئے۔ براہِ کرم راہنمائی فرمائیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
طائف میقات سے باہر ہے، (میقات اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں سے مکہ مکرمہ جانے والے کے لیے بغیر احرام کےجانا جائز نہیں ہوتا، خواہ حج و عمرہ کی نیت سے جانا ہو یا کسی ذاتی مقصد مثلاً تجارت یا سیر کے لیے جانا ہو ) اور مِنیٰ اور مزدلفہ حدودِ حرم کا حصہ ہیں، اس لیے طائف سے احرام کے بغیر میقات تجاوز کرنے کی وجہ سے ان تمام بالغ مرد و خواتین میں سے ہر ایک پر الگ الگ دم واجب ہو گیا، اور حج یا عمرہ میں سے کوئی ایک عبادت بھی ہر ایک کے ذمہ لازم ہو گئی۔ اگر اسی سال حج یا عمرہ (خواہ کسی بھی نیت سے کر لیا جائے، خواہ فرض حج کر لیا یا حج و عمرہ کی نذر مانی تھی، وہ کر لیا ) تو بطور سزا واجب ہونے والا حج یا عمرہ ذمہ سے ساقط ہو جائے گا۔ اگر اسی سال کوئی بھی حج یا عمرہ نہ کیا تو بطور سزا واجب ہونے والا حج یا عمرہ خاص قضا کی نیت سے کرنا ضروری ہو گا۔دم سے مراد ایک بکری ، بکرا، بھیڑ یا دنبہ (یا اونٹ، گائے، بیل یا بھینس کا ساتواں حصہ) حرم کی حدود میں ذبح کر کے گوشت فقراء و مساکین میں تقسیم کر دیا جائے یا پکا کر کھلا دیا جائے، دم دینے والااس میں سے نہ کھائے۔یاد رہے کہ بغیر احرام کے میقات سے تجاوز کرنے کی وجہ سے اگر دم واجب ہو گیا ہو اور وہ بندہ واپس میقات جا کر احرام باندھ کر لوٹ آئے تو بھی دم ساقط ہو جاتا ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved