• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

غیر عالمہ ماہر عربی خاتون کے ترجمہ و تفسیر پڑھانے کا حکم

استفتاء

آپ سے سوال یہ ہے کہ ایک غیر عالمہ خاتون جو عربی زبان میں مہارت حاصل کر لے، پھر وہ اپنے تعلق والوں کو یا بچوں کو قرآن کا ترجمہ و تفسیر کا درس دیا کرے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟ براہِ کرم دلائل کے ساتھ جواب ارشاد فرما دیں۔ جزاک اللہ خیرا

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

واضح رہے کہ قرآن کریم کا ترجمہ یا تفسیر بیان کرنے کے لیے جہاں عربی زبان میں مہارت ضروری ہے وہاں ان تمام علوم کا حاصل کرنا بھی ضروری ہے جو قرآن مجید کی تفسیر میں لازمی قرار دیے گئے ہیں۔

وہ سولہ علوم جو قرآن کریم کی تفسیر کرنے کے لیے ضروری ہیں درج ذیل ہیں:
[1]: لغت [2]: علم نحو [3]: علمِ صرف [4]: علم اشتقاق[5]:علمِ معانی [6]: علمِ بیان [7]: علمِ بدیع [8]: علمِ قرأت[9]: علمِ عقائد [10]: اصولِ فقہ [11]: اسبابِ نزول [12]: ناسخ و منسوخ[13]: علمِ فقہ [14]: احادیث [15]: علمِ لدنی تفسیر کے لئے ان علوم کا حامل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ تفسیر در اصل مرادِ خداوندی کو بیان کرنے کا نام ہے۔ جب کوئی شخص قرآنی آیات پر گہری نظر رکھتا ہو گا تو اسے معلوم ہو گا کہ اس آیت کا معنی و مفہوم دوسری آیت میں کیا بیان ہوا ہے؟ کیونکہ قرآن مجید کی ایک آیت دوسری آیت کی تشریح کرتی ہے۔ اسی طرح تفسیر کرنے کے لیے حدیث مبارک سے واقفیت بھی ضروری ہے کیونکہ قرآن مجید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور مرادِ خداوندی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر کون جان سکتا ہے؟ پھر قرآن کریم کی تفسیر کرنے میں بعض مرتبہ مختلف آراء میں سے کسی ایک رائے کو ترجیح دی جاتی ہے۔اس سولہ علوم سے عاری ہو کر انسان اگر ترجیح دیتا ہے تو کئی مرتبہ اسلام کے قطعی اور اجماعی نظریات کو چھوڑ کر ان کے بالمقابل غلط نظریات کو ترجیح دے بیٹھتا ہے اور تفسیری قواعد و ضوابط سے بالاتر ہوکر قرآن مجید کو اپنی جاہلانہ تحریفات کا تختہ مشق بنا تا ہے۔ غرض ان علوم کا حامل ہونا تفسیر کرنے کے لیے ضروری ہے ورنہ خدانخواستہ اگر اپنی لا علمی اور کم فہمی کی وجہ سے مرادِ خداوندی کو غلط بتایا تو ٹھکانہ سوائے جہنم کے اور کچھ نہیں۔ حدیث مبارک میں ہے:مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.ترجمہ: جس نے قرآن (کی تفسیر) میں اپنی رائے سے کچھ کہا تو وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔اور ایسی تفسیر اگر اتفاقاً صحیح بھی نکل آئے تب بھی اسے خطا اور غلطی کہا گیا ہے۔ حدیث مبارک میں ہے:
مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَأَ. ترجمہ: جو شخص محض اپنی عقل سے تفسیر بیان کرے تو وہ تفسیر (اگرچہ اتفاقاً) درست بھی ہو تب بھی اسے غلطی کرنے والا سمجھا جائے گا۔اسی طرح ترجمہ کرنے کے لیے بھی محض عربی زبان سے واقفیت کافی نہیں، اس لئے کہ قرآنی مفہوم کو عربی سے کسی دوسری زبان میں منتقل کرنا اور صحیح ترجمانی کرنا بعض مرتبہ تفسیر سے بھی زیادہ مشکل اور نازک کام ہوتا ہے۔ ترجمہ کرتے وقت قرآنی اسلوب کو ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے اور اعتقادات ونظریات کو سامنے رکھنا بھی لازمی ہوتا ہے۔ اسی لیے ایک آیت میں کسی لفظ کا ترجمہ ایک طرز سے کرنا پڑتا ہے اور دوسری آیت میں اسی لفظ کا ترجمہ کسی دوسرے ڈھنگ سے کرنا پڑتا ہے جو مذکورہ علمی مہارت کے بغیر ممکن نہیں۔اس لیے سوال میں ذکر کردہ خاتون کے لیے محض عربی زبان میں مہارت کی بنیاد پر ترجمہ و تفسیر کرنا جائز نہیں بلکہ اس کام کے لیے مذکورہ 16 علوم کا حاصل کرنا ضروری ہے۔ نیز اس طرزِ عمل میں قوی اندیشہ ہے کہ یہ قرآن کریم میں اپنی رائے کو دخل دے کر امتِ مسلمہ کے اجماعی اعتقادات ونظریات سے متصادم نظریات قائم کرکے اپنے ساتھ دوسروں کو بھی گمراہ کر بیٹھے گی! -اعاذنا للہ منہ-نوٹ:اگر اس خاتون کے درس کا طرز یہ ہو کہ یہ خاتون از خود ترجمہ و تفسیر نہ کرتی ہو بلکہ اہلِ حق علماء کے تراجم اور تفاسیر کو بیان کرتی ہو، کہیں کوئی اشکال یا سوال پیدا ہو تو محض اپنی عقل سے اسے حل نہ کرتی ہو بلکہ معتبر علماء سے اس کا حل معلوم کرتی ہو اور تفسیر کے عنوان سے اپنی ذاتی رائے نہ بیان کرتی ہو بلکہ قدم بہ قدم علمائے حق کی رہنمائی میں اہلِ حق کا ترجمہ وتفسیر ہی بیان کرتی ہو ……غرض اس کی حیثیت ترجمہ اور تفسیر کے ناقل کی ہو تو اس طرح درس دینے کی گنجائش ہے لیکن کسی مستند عالم کی زیرِ نگرانی یہ کام کرے تو بلاشبہ یہ عمل انتہائی محتاط اور قابلِ تعریف ہو گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved